ابنا: منگل کو ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے نام خط میں کیتھرین اشٹن نے انہیں مبارک باد دینے کے ساتھ ہی اس بات کا ذکر کیا کہ نئے ایرانی صدر نے ملک کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات تیزی سے دور کرنےکے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مذاکرات اور تعاون میں سے متعلق مضبوط مینڈیٹ حاصل کیا ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ جتنی جلدی عملی ہوا بامعنی مذاکرات کا وقت طے ہوجائیگا۔ کیتھرین اشٹن کا یہ خط منگل کو ایسے وقت آیا جب اسی دن ایرانی صدر نے گروپ 5 +1 کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لئے ایران کی آمادگی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی، ایران پر پرامن ایٹمی پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں اور اسی الزام کے بہانے امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر یکطرفہ پابندیاں لگارکھی ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی تمام جوہری سرگرمیاں، پرامن ہیں جو آئی اے ای اے کی نگرانی میں جاری ہیں اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے رکن ملک کے ناطے پرامن مقصد کے لئے جوہری توانائی کے استعمال کے اپنے بنیادی حقوق پر زور دیتا ہے۔آئی اے ای اے نے بھی ایران کی ایٹمی تنصیبات کا متعدد بار معائنہ کیا ہے اور اسے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے مغربی ممالک کے الزامات کی تصدیق ہوتی ہو۔ قابل ذکر ہے کہ 22 فروری 2012 میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیار بنائے جانے کے حرام ہونے کا فتوی جاری فرمایا ہے۔
.......
/169