ابنا: شیعہ علماء کونسل پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر 100 سے زائد مسلح دہشت گردوں کی لشکر کشی اور فائرنگ کے نتیجہ میں 7 اہل تشیع قیدیوں سمیت 14 افراد کے قتل اور پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 8 اہل تشیع قیدیوں کے اغواء کرنے سمیت 248 سے زائد خطرناک دہشت گرد قیدیوں کو کامیابی کے ساتھ فرار کروا کر لے جانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے سامنے حکومتی ادارے مکمل طور پر بے بس اور ناکام ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے معلومات کی فراہمی کے بعد بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقع کی روک تھام کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے۔؟ علاوہ ازیں دہشت گردوں کی جانب سے جیل انتظامیہ کو یرغمال بنائے رکھنا اور خطرناک قیدیوں کو اپنے ہمراہ لے جانا جدید اسلحہ اور راکٹوں کا استعمال موجودہ حکومت کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملک میں ایک سازش کے ساتھ حالات خراب کئے جا رہے ہیں۔ سب کو علم ہے کہ قاتل دہشت گرد کون ہیں اور کہاں پلتے ہیں۔ ملک تیزی کے ساتھ تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے کراچی سے لے کر پاراچنار تک اور کوئٹہ سے لے کر گلگت اسکردو تک پورا ملک دہشت گردی کی آگ کی لپیٹ میں ہے، لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ایسا کب تک چلے گا؟ انہوں نے کہا کہ اب مصلحتوں کا نہیں عملی اقدامات اٹھائے جانے کا وقت آگیا ہے۔ اور حکومت کو ان دہشت گرد و ملک دشمن عناصر کے خلاف جلد از جلد آپریشن شروع کرنا چاہیے، تاکہ اس پاک سرزمیں کو ان دہشت گردوں سے پاک کیا جاسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
30 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 447114
اسلامی تحریک کے سربراہ ساجد علی نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے واقع کے سلسلے میں اپنے مذمتی بیان میں نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے جیل انتظامیہ کو یرغمال بنائے رکھنا اور خطرناک قیدیوں کو اپنے ہمراہ لے جانا جدید اسلحہ اور راکٹوں کا استعمال موجودہ حکومت کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے۔