ابنا: علي اکبر صالحي نےاس بات کي وضاحت کي کہ يوروپي يونين کے وزرائے خارجہ اپنے زعم ميں اس قدم سے خطے کي تبديليوں پر اثرانداز ہونا چاہتے ہيں حالانکہ انہوں نے بحرانوں کے اسباب کے تجزيہ ميں غلطي کرتے ہوئے غلط رويہ اپنايا اور دوغلے رويہ پر مبني اپني پاليسي کو آشکار کر ديا-انہوں نے حزب اللہ لبنان کے خلاف يوروپي يونين کے وزرائے خارجہ کے فيصلے کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ايران کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے لبنان کي مزاحمتي تنظيم کي عوامي و حق پسندانہ ماہيت ميں کوئي تبديلي نہيں آئے گي اور اس بات ميں ذرا بھي شک نہيں کہ يوروپي يونين کا يہ قدم غاصب صہیوني ریاست کے مفاد ميں اٹھايا گيا ہے-
.......
/169