ابنا: شام میں انسانی حقوق کمیٹی نے اطلاع دی ہےکہ صوبہ الرقۃ میں دہشتگردوں اور کرد جوانوں کے درمیاں شدید جھڑپيں ہورہی ہیں۔ اس بیان میں آیا ہےکہ کرد ملیشیا نے تکفیری دہشتگرد گروہ جبہۃ النصرۃ کے سرغنےابورعد اور اسکے دہشتگردوں کو محاصرے میں لے لیا ہے۔
شام کے کرد جوانون نے الرقۃ صوبے کے متعدد علاقوں کو تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔ شام کے شمال مغربی صوبے الحسکہ کے جبل آغا کے علاقے میں ساتویں دن بھی کرد جوانون اور دہشتگردوں کے درمیاں جھڑپيں جاری رہیں۔ شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی نے کہا ہےکہ بعض عرب ممالک تکفیری دہشتگردوں کو بھیج کر شام میں تباہی پھیلارہے ہیں اور اس طرح وہ عرب قوموں کے اھداف و مقاصد سے منحرف ہوچکےہیں۔ وائل الحلقی نے دمشق میں شام میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سربراہ مختار لمانی سے ملاقات میں کہا کہ شام کی ارضی سالمیت کا دفاع کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خطرے کا ازالہ کیا جائے گا۔
شام کے وزیر اعظم نے کہا کہ شام جینوا ٹو کانفرنس میں شرکت کرنے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا جن علاقوں سے دہشتگردوں کو نکال باہر کیا گيا ہے ان علاقوں میں حکومت تعمیر نو کا کام انجام دے رہی ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ صیہونی حکومت مقبوضہ جولان کے پہاڑی علاقے میں قنیطرہ سے دہشتگردوں کو شام بھیج رہی ہے۔ صیہونی حکومت دہشتگردوں کے ہاتھوں قنیطیرہ کے اسٹراٹیجیک علاقے میں شام کی فوج کے ٹھکانوں پرحملے کرواکر شام کی فوج کو کمزور بنانا چاہتی ہے۔ قابل ذکرہے اس وقت مقبوضہ فلسطین، ترکی اور اردن سے ہزاروں دہشتگرد شام میں دراندازی کرکے شام میں تباہی پھیلارہے ہیں۔
.......
/169