22 جولائی 2013 - 19:30
زندگي نامہ حضرت امام حسن عليہ السلام

زندگي نامہ حضرت امام حسن عليہ السلام

 

آپ کی ولادتآپ کی سخاوتآپ کانام نامیتوکل کے متعلق آپ کاارشادزبان رسالت دہن امامت میںامام حسن حلم اور اخلاق کے میدان میںآپ کا عقیقہعہد امیرالمومنین میں امام حسن کی اسلامی خدماتکنیت و القابحضرت علی کی شہادت اور امام حسن کی بیعتامام حسن پیغمبر اسلام کی نظر میںصلحامام حسن کی سرداری جنتشرائط صلحجذبہ اسلام کی فراوانیصلح نامہ پردستخطامام حسن اور ترجمانی وحیشرائط صلح کاحشرحضرت امام حسن کابچپن میں لوح محفوظ کامطالعہ کرناکوفہ سے امام حسن کی مدینہ کوروانگیامام حسن کابچپن اور مسائل علمیہصلح حسن اور اس کے وجوہ و اسبابامام حسن اور تفسیر قرآنحضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادتامام حسن کی عبادتامام حسن کی تجہیز و تکفینآپ کازہدآپ کی ازواج اور اولاد

امام حسن علیہ السلام   آپ کی ولادت

   آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے ۔ ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم(ص) کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ پہنچا ہے ۔ خواب رسول کریم سے بیان کیا آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری لخت جگر فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔ مورخین کا کہنا ہے کہ رسول کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی۔ آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورئہ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔

 

آپ کانام نامی

   ولادت کے بعداسم گرامی حمزہ تجویز ہو رہاتھا لیکن سرورکائنات نے بحکم خدا، موسی کے وزیرہارون کے فرزندوں کے شبر و شبیر نام پرآپ کانام حسن اور بعد میں آپ کے بھائی کانام حسین رکھا، بحارالانوار میں ہے کہ امام حسن کی پیدائش کے بعدجبرئیل امین نے سرورکائنات کی خدمت میں ایک سفید ریشمی رومال پیش کیا جس پرحسن لکھا ہوا تھا ماہر علم النسب علامہ ابوالحسین کا کہنا ہے کہ خداوندعالم نے فاطمہ کے دونوں شاہزادوں کانام انظارعالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے پہلے حسن وحسین نام سے کوئی موسوم نہیں ہوا تھا۔ کتاب اعلام الوری کے مطابق یہ نام بھی لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا تھا۔

 

زبان رسالت دہن امامت میں

   علل الشرائع میں ہے کہ جب امام حسن کی ولادت ہوئی اورآپ سرورکائنات کی خدمت میں لائے گئے تو رسول کریم بےانتہا خوش ہوئے اور ان کے دہن مبارک میں اپنی زبان اقدس دیدی بحارالانور میں ہے کہ آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ