22 جولائی 2013 - 19:30
شیخ نبیل نعیم کے اہم انکشافات اور نصیحتیں (2)

نوجوانو! یہ ہیں وہ جہادی کمانڈر جو تمھیں استعمال کر رہے ہیں اور تمھاری صلاحیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ تم دیکھو گے کہ تم مر رہے ہوگے اور یہ لوگ امریکہ کے مفادات کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو اسلامی مجاہد اور خلافت کا داعی کہتے ہیں، سے بھی میں کہنا چاہوں گا کہ پہلا شخص جس نے ہمیں مدد، دی بعث پارٹی کا سربراہ صدام تھا۔ اس نے ہمیں ایک پناہ گاہ دی۔ کیا بعث پارٹی آج عالم اسلام کی قیادت کر رہی ہے؟ کیا آج صدام ہمارا خلیفہ ہے؟ صدام اور حافظ الاسد میں یہ فرق تھا کہ صدام نے مذہب کو مال تجارت کے طور پر استعمال کیا۔

ابنا: (قارئین سے گزارش ہے کہ اس قسط کا مطالعہ سے قبل پہلی قسط میں دیا گیا شیخ نبیل نعیم کا تعارف ضرور پڑھیں، تاکہ شیخ کی شخصیت اور ان کی گفتگو کی اہمیت کے بارے میں اندازہ ہوسکے) آسیا چینل: بہت سے ایسے افراد ہیں جو شام میں جنگ کو اپنے دفاع کی جنگ قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، مثلاً اخوان کہتے ہیں کہ چونکہ شامی حکومت ہمیں برباد کرنا چاہتی ہے، اس لیے ہم جنگ کر رہے ہیں۔ آپ کی نظر میں کیا اپنا دفاع کرنا ایک ذمہ داری نہیں ہے۔؟ شیخ نبیل نعیم: یہ دراصل ایک جھوٹ ہے، جس کی جانب لوگوں کو بلایا جا رہا ہے۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں اور ایمن الظواہری سے کہتا ہوں کہ وہ شہادت دیں اس قصے کے بارے میں، جو میں ابھی بیان کرنے والا ہوں۔ ایمن الظواہری مجھے خدا کو حاضر ناظر جان کر میری اس بات کا انکار کریں، جس کو ہم سب نے جان دینی ہے اور جس کے سامنے روز حساب کھڑا ہونا ہے۔ اسی کی دہائی کے دوران جب حافظ الاسد اور اخوان کے مابین اختلافات شدید تھے، ایک شامی شخص کویت میں شیخ احمد کے پاس گیا۔ اس نے شیخ کو بتایا کہ شام کی جیلوں میں 200 سنی خواتین قید ہیں۔ جن کے ساتھ شامی حکومت کے افراد نے جنسی زیادتی کی ہے اور وہ اس سے حاملہ ہوچکی ہیں۔ آپ اس سلسلے میں کیا فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ خواتین اپنے حمل کو گرا دیں یا اس کو قائم رکھیں؟ شیخ یہ بات سن کر روئے اور انھوں نے اس قصہ کو اپنے خطبہ جمعہ میں بیان کیا۔ یہ بات کویت سے موریطانیہ تک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ حتٰی کہ میں اور ایمن الظواہری حما کے میدان میں لڑنے والے کمانڈر ابو مصعب سے ملے۔ ہم ان کے پاس سوڈان کے علاقے شمبات میں ان کی رہائش گاہ پر ایک ماہ کے لیے رہے۔ انھوں نے ہمیں خدا کی قسم دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ ایک صریح جھوٹ ہے، جو اس شخص نے خود سے گھڑا تھا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ہم یہ بات کسی حکومتی اہلکار سے نہیں سن رہے تھے بلکہ اس کا راوی شامی حکومت کے خلاف حما کے میدان میں لڑنے والا اخوان المسلمون کا ایک مجاہد راہنما تھا۔ اس شامی نے اپنے اس جھوٹ کے بل بوتے پر کویت میں پانچ ملین کویتی دینار جمع کئے اور ان پیسوں سے اٹلی میں فرنیچر کا کاروبار شروع کیا۔ پس شام کے بارے میں جو کچھ آپ سن رہے ہیں، اس میں بہت سا جھوٹ اور پراپیگنڈہ ہے۔ ایمن الظواہری نے مجھے شامی مجاہدین کے پاس بھیجا، جہاں میں نے دیکھا کہ یہ مجاہد کمانڈر پیسوں سے چھلک رہے ہیں اور مجاہدین کے پاس ایک کھوٹا سکہ بھی نہیں ہے۔ میں نے شام کے عدنان عقدہ جو مجاہدین کے کمانڈر تھے، کا ایک مکتوب ایمن تک پہنچایا جو جرمنی میں موجود ایک کمانڈر عصام العطار کے نام لکھا گیا تھا اور جس میں درخواست کی گئی تھی کہ مجاہدین کو مالی مدد کی ضرورت ہے۔ عدنان عقدہ نے شکوہ کیا کہ کچھ مجاہد راہنما جن میں سعید حروہ، ابو جعفر مصری اور کچھ دیگر شامل ہیں، جنگ کے نام پر اکٹھے کئے گئے مال تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ عدنان نے عصام سے کہا کہ سعید حروہ نے گذشتہ ایک سال میں اسے صرف ڈھائی لاکھ ڈالر دیئے ہیں جبکہ ہمارے مجاہدین بے سرو سامانی میں پارکوں، ریلوے اسٹیشنوں اور گیس اسٹیشنوں پر سوتے ہیں۔ نوجوانو! یہ ہیں وہ جہادی کمانڈر جو تمھیں استعمال کر رہے ہیں اور تمھاری صلاحیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ تم دیکھو گے کہ تم مر رہے ہوگے اور یہ لوگ امریکہ کے مفادات کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو اسلامی مجاہد اور خلافت کا داعی کہتے ہیں، سے بھی میں کہنا چاہوں گا کہ پہلا شخص جس نے ہمیں مدد، دی بعث پارٹی کا سربراہ صدام تھا۔ اس نے ہمیں ایک پناہ گاہ دی۔ کیا بعث پارٹی آج عالم اسلام کی قیادت کر رہی ہے؟ کیا آج صدام ہمارا خلیفہ ہے؟ صدام اور حافظ الاسد میں یہ فرق تھا کہ صدام نے مذہب کو مال تجارت کے طور پر استعمال کیا۔ آج بشار الاسد کی صورت میں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ وہ کون ہے جس نے آج آپ کو بشار کے خلاف اسلام کے نام پر لڑنے کے لیے دعوت دی ہے۔ کیا بشار نے فلسطینیوں پر حملے کئے اور ان کے قتل کا حکم دیا؟ کیا بشار لبنان میں قانہ کے واقعے کا ذمہ دار ہے؟ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے قتل و غارت کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ کیا اسرائیل ہی آج جمہوریت کا چہرہ ہے؟ کیا اسرائیلیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔؟ میرے بھائیو! تمھارے ذہنوں کے ساتھ کیا حادثہ وقوع پذیر ہوگیا ہے۔ تم استعمال ہو رہے ہو اور وہ بھی ایسے معاملے میں جس سے تمھارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ آسیا چینل: اس بارے میں بہت بحث ہے کہ شامی حکومت نے مسلمان مظاہرین کو قتل کیا۔ کیا ان مسلمانوں کو اپنے دفاع کا حق نہیں ہے۔؟ شیخ نبیل نعیم: مصر میں جب انقلاب شروع ہوا تو تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں ہوئیں، لیکن اس انقلاب کی قوت اس کا پرامن ہونا تھا۔ اگر طاقت کا جواب طاقت سے دیا جاتا تو یہ مظاہرین اپنا مقصد اور ہدف کھو بیٹھتے۔ انقلاب ایران میں کتنے لوگ قتل ہوئے؟ شام میں تو انقلاب کے آغاز میں دو سو سے تین سو افراد قتل ہوئے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے یہ افراد بھی بشار الاسد کے حکم پر قتل نہیں کیے گئے بلکہ اس میں بھی ان جہادیوں کا ہاتھ ہے جو مظاہرین کو استعمال کر رہے تھے۔ آج مصر میں وہ لوگ جنھوں نے عام شہریوں کو قتل کیا ہے، کو چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ بے قصور قرار دے دیئے گئے ہیں۔ یعنی مصر میں ہونے والی اموات کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے۔ اسی طرح آپ بشار الاسد کی حکومت کو بھی اس قتل کا ذمہ دار نہیں ٹہرا سکتے۔ یہ کوئی بھی ہوسکتا ہے، ممکن ہے اس قتل و غارت کے پیچھے موساد کے ایجنٹوں کا ہاتھ ہو۔ میں یہاں شیخ قطب الزاد کا ایک واقعہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے امام خمینی کو لکھا کہ ہمارا جمال عبد الناصر سے ایک معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت شاہ کی حکومت کے خاتمے کے لیے وہ ایرانیوں کو مسلح کرنے کے لیے تیار ہے۔ امام نے جواب دیا کہ جتنا بھی وقت لگے ہم شاہ کے خلاف مسلح جدوجہد نہیں شروع کریں گے۔ ہم انتظار کریں گے کہ ایرانی قوم شاہ کی اس بربریت کے مقابلے میں خود سے قیام کرے۔ پس نتیجہ کلام یہ ہے کہ ہر مزاحمت میں ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ یہ ہلاکتیں درست ہیں۔ میرا موقف یہ ہے کہ جو لوگ ان ہلاکتوں کے مرتکب ہوتے ہیں وہ مہرے ہوتے ہیں، جیسا کہ ہم نے مصر میں دیکھا۔ کچھ نے کہا کہ وہ موساد کے افراد تھے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے دیگر باتیں کیں۔ مجھے ایک ایسی مثال دیں جس میں کسی بھی مصری افسر پر ان ہلاکتوں کا الزام ثابت ہوا اور اسے سزا دی گئی ہو۔ ہم جھوٹ کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہم نے اسی کی دہائی میں دیکھا کہ وہ لوگ جو حافظ الاسد کے خلاف لڑ رہے تھے، نے لاکھوں ڈالر جمع کرنے کے بعد اسی حافظ الاسد سے امن معاہدہ کرلیا۔ آسیا چینل: آج ہزاروں مسلمان شام میں جنگ لڑ رہے ہیں، آپ کی نظر میں کس طرح اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو لڑنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔؟ شیخ نبیل نعیم: اولاً تو انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ ایک مرتد سے جنگ کرنا اہل کتاب سے جنگ کرنے سے افضل ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک انتہائی گمراہ کن نظریہ ہے۔ میری نظر میں ایک جارح، اسلامی ثقافت نیز مذہب کو پامال کرنے والے اور اسلامی زمینوں پر قبضہ کرنے والے سے جہاد کرنا ایک نام نہاد مرتد سے جہاد کرنے سے بدرجہ ہا افضل ہے۔ صیہونیوں نے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا، ہمارے خانوادوں کی بے حرمتی کی اور انھیں ذبح کیا، ہمیں اپنے گھروں سے بے گھر کیا۔ اس کے بعد ہم کس چیز کے منتظر ہیں۔ بشار کو مرتد کہنا ایک جھوٹ ہے۔۔۔ آپ دیکھیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو بشار کو مرتد قرار دے رہے ہیں؟ جہاں تک میرے علم میں ہے بشار سنی ہے۔ جس نے اپنی شادی کے دن اعلان کیا تھا کہ وہ اسلامی برادری پر یقین رکھتا ہے۔ فرض کیا کہ وہ سنی نہیں ہے تو بھی جب تک وہ ہمارے دین، ہمار ے روزوں، ہماری نمازوں اور ہمارے حج کے خلاف اقدام نہیں کرتا، ہم اس کے خلاف نہیں لڑسکتے۔ میں جانتا ہوں کہ شام عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے معاشرتی مساوات کی بات کی۔ شام وہ واحد عرب ملک ہے جہاں ایک غریب آدمی زندہ رہ سکتا ہے اور اپنی گزر اوقات کرسکتا ہے۔ شام تیسری دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر ایک ڈالر کا قرضہ نہیں ہے۔ حافظ الاسد اپنے ملک کے باسیوں کو ضروری سہولیات مہیا کر رہا تھا۔ پس ہم نے فتنے کا آغاز کیوں کیا۔؟

آسیا چینل: شام میں دباؤ ہے، آمریت ہے، لوگ آزادی چاہتے ہیں، جس طرح آج آپ کو حاصل ہے۔؟ شیخ نبیل نعیم: میرے محترم! ہم آزادی تقریر کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ہم یہاں اصلاح کی بات کر رہے ہیں نہ کہ قتال کی۔ جنگ کی ابتداء ایک غلط قدم تھا۔ بشار بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میڈیا کو آزادی دے۔ وہ چاہتا تھا کہ حافظ الاسد اور اس کے دور میں کچھ امتیازات ہوں، جس کی عملی شکلیں ہم دیکھ رہے تھے۔ کیا آزادی کے لیے ہمیں لوگوں کو حکومت کے خلاف مسلح جہاد پر ابھارنے کی ضرورت تھی؟ کیا اس بات کی ضرورت تھی کہ ہم شام کی تقسیم کی بات کریں؟ امریکہ جو آزادی تقریر کی بات کرتا ہے، آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ نکارا گاؤ، ہنڈروس اور ایل سلوا ڈور میں کیا کر رہا ہے۔ امریکی کب کسی کو آزادی دیتے ہیں۔ وہ کتے کی سی آزادی دیتے ہیں، یعنی آپ کو بھونکے کی اجازت تو دیں گے لیکن کبھی بھی ہڈی کے قریب نہیں جانیں دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنا جی چاہے بھونکو لیکن ہمارے مفادات کی جانب مت بڑھو۔ میں نے اپنے قریبی دوست سعدالدین الابراھیمی سے پوچھا کہ امریکہ کے مشرق وسطٰی میں حقیقی مقاصد کیا ہیں؟ میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے یہاں کبھی کسی ملک کے عوام کی آزادی کے لیے کوئی کام کیا ہو۔ سعد نے کہا کہ وہ یہاں صرف اپنے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کا خطے میں حقیقی مفاد منافع جمع کرنا ہے۔ آسیا چینل: کیا آپ سینیٹر جان میکین کے حالیہ دورہ شام کے مخالف ہیں، جس میں اس نے کہا کہ وہ شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے اور انہیں مدد مہیا کرنے کے نظریئے کی حمایت کرتا ہے۔؟ شیخ نبیل نعیم: جان میکین کس حیثیت میں شام کی حزب اختلاف سے مذاکرات کر رہا ہے۔ کیا وہ خلافت کے قیام کی بات کرنے آیا ہے؟ وہ لوگ جو شام میں لڑ رہے ہیں وہ وہاں خلافت کے قیام کی بات کرتے ہیں، نہ کہ جان میکین کی جمہوریت کی۔ وہ اپنی جمہوریتوں کے منکر ہیں۔ وہ ووٹ دینے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ پس جان میکین کیسے النصرہ کے لوگوں سے مذاکرات کرے گا۔ آپ کے خیال میں وہ کن لوگوں سے مذاکرات کے لیے شام گیا؟ وہ وہاں اپنے گماشتوں اور ایجنٹوں سے ملنے گیا تھا۔ یہ لوگ اپنے عوام کے ساتھ وہ سب کرنے کے لیے آمادہ ہیں جو بشار الاسد نہیں کرسکتا تھا۔ آسیا چینل: مثلاً شیخ نبیل نعیم: مثلاً! اسرائیل کے لیے راہ ہموار کرنا، شام کو تقسیم کرنا، مقاومت (حزب اللہ) کا خاتمہ اور جولان کے پہاڑیوں کے معاملے سے دستبرداری۔

میں اس تحریر کو اسی قسط میں ختم کرنا چاہتا تھا تاہم مواد اس قدر زیادہ اور اہم ہے کہ مجھے مجبوراً تیسری قسط تحریر کرنی ہوگی۔ امید ہے قارئین اور اسلام ٹائمز کی انتظامیہ میری اس جسارت کو معاف فرمائیں گے۔ شیخ نبیل نعیم نے اپنے اس انٹرویو میں امریکہ اور اس کے حواریوں کے مقاصد اور سلفی جنگجوؤں کا ان مقاصد کے ل