22 جولائی 2013 - 19:30
سیدہ زینب (س) کے مزار کی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات زیر غور ہیں

صیغہ اخوت کی تجدید پر زور دیتے ہوئے سربراہ اسلامی تحریک نے کہا کہ شام کی جنگ بین الاقوامی تھیٹر کی صورت اختیار کرچکی ہے، اس صورتحال میں بے گناہ لوگوں کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

ابنا: اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ نہ صرف امت مسلمہ کی وحدت اور عالم اسلام کے اتحاد کی خاطر بلکہ اسلامیان پاکستان کو جتنی اس وقت وحدت و اتحاد اور باہمی اخوت و یگانگت کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ لہذا روز مواخات کو یاد رکھتے ہوئے آج ایک بار پھر ’’صیغہ اخوت‘‘ کی تجدید کی جائے اور انصار و مہاجرین والا جذبہ بیدار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹے جائیں، تاکہ مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پاکستانی مسلمانوں میں اس بارے میں کوئی دو آراء نہیں کہ ملک میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری میں ملوث شرپسند عناصر کا کسی مذہب و مکتب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کا مسلک صرف اور صرف دہشت گردی ہے۔

راولپنڈی میں اپنے اعزاز میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ دین اسلام امن و آشتی اور محبتیں بانٹنے اور نفرتیں ختم کرنے والا دین ہے جو خالق کائنات کے نزدیک پسندیدہ ترین دین ہے، مگر یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ بعض شرپسند عناصر اپنے سرپرستوں کی ایماء پر اس کا روشن چہرہ مسخ کرنے کی مذموم کوششوں میں مشغول ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہ صیام میں بھی معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے، بین الاقوامی سطح پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قاتلوں کے گروہ مختلف ممالک کی پشت پناہی اور سرپرستی میں شام پہنچ رہے ہیں، جن میں پاکستان کے انتہا پسند قاتلوں کا گروہ بھی شامل ہے۔

شام کی جنگ بین الاقوامی تھیٹر کی صورت اختیار کرچکی ہے اور تھیٹر کے کرداروں میں مختلف مغربی اور اسلامی ممالک شامل ہیں، اس صورت حال میں بے گناہ لوگوں کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھ کر اور نواسی پیغمبر اکرم ص، دختر امیر المومنین علی ع ابن ابی طالب حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کے مزار کی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات زیر غور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہ صیام میں چونکہ دل او روح نیکی اور پرہیزگاری کی جانب مائل ہوتے ہیں، لہذا اس ماہ مبارک میں دین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی بہترین مشق کا موقع میسر آتا ہے۔ انفرادی عبادت و ریاضت اور تزکیہ و تقویٰ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے اجتماعی امور کی جانب بھی توجہ دی جانی نہایت ضروری ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کا واحد حل تعلیمات قرآن اور سیرت پیغمبر گرامی ص سے صحیح استفادہ اور اتحاد و وحدت میں مضمر ہے۔ باہمی محبت و رواداری کو فروغ دیں، نفرتوں، بغض و عناد اور عداوتوں کا خاتمہ کریں، فروعی مسائل اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ہوا دینے سے گریز کریں اور مشترکات پر جمع ہوکر وحدت کا عملی مظاہرہ کریں، تاکہ وطن عزیز سے بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل و مشکلات کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔

.......

/169