18 جولائی 2013 - 19:30
قطر، شیخ حمد کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد شام میں سعودی سرگرمیوں میں اضافہ

قطر میں شیخ حمد بن آل خلیفہ ثانی کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد شام میں سعودی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق ریاض نے بشار اسد کے خلاف جنگ کی سربراہی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

ابنا: شیخ حمد بن آل خلیفہ ثانی نے گزشتہ ماہ بظاہر بیماری کے بہانے اقتدار سے علیحدگی اختیار کی ہے لیکن اس پر امریکہ اور مغرب کا شدید دباؤ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے امیر کویت ہونے کا جلد اعلان کرے۔
شام میں جاری سعودی سرگرمیوں سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شیخ حمد بن آل خلیفہ ثانی کی برطرفی میں شام میں قطر کی شکست نے بنیادی کر دار ادا کیا ہے اور اس حوالے سے دوحہ اور ریاض کے اختلاف کو ہر گز نظراندار نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی عرب نے کبھی بھی شام کے حوالے سے قطر کی قیادت کو دل سےقبول نہیں کیا۔لہاذا اب اس نے یہ سربراہی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ پہلے مرحلے میں سعودی عرب نے  اپنی لابی کے فرد یعنی عاصر جربا کو شام کی اپوزیشن گروہوں کا سربراہ بنوایا اور اس میں قطر کا امیدوار ہار گیااس سے جہاں اپوزیشن جماعتوں کے باہمی اختلاف ختم ہونے کا امکان ہے وہیں سعودی عرب کی گرفت بھی مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔دوسرے مرحلے میں سعودی عرب کے انٹیلیجنس منسٹر بندر بن سلطان نےپورپی ممالک کا دورہ شروع کررکھا ہے جہاں وہ فرانس جرمنی اور برطانیہ کا دورہ کر کے  ان ممالک کو شام کے حوالے سے اپنا ہم فکر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان دوروں میں انہوں نے اپنے اعلی سطحی وفد کے ہمراہ ان ممالک کے وزراۓ خارجہ اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ تیسرے مرحلے میں شام کے اپوزیشن رہنما عاصی جربا کی سعودی ولیعھد سے ملاقات کرائی گئی تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ سعودی لابی کے ہیں اور انہی کے اشارے پر سب کچھ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ بندر بن سلطان کے بھائی  شاہزادہ سلمان بن سلمان کو بشار اسد مخالفین کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اورسعودی عرب، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کی سرگرمیوں سے ایسا لگتا ہے کہ قطر میں آنے والی تبدیلیوں سے شام کے حوالے سے نئے منصوبے کا آعاز ہو گیا ہے.

.....

/169