16 جولائی 2013 - 19:30
ہمارا صرف ایک مقصد ہے اور وہ شیعوں کے ساتھ جنگ

شام میں دھشتگروں سے ملحق شدہ پاکستانی تکفیریوں کا کہنا ہے کہ ہم ہمیشہ سے شیعوں کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں اور اب شام میں بھی شیعوں کے خلاف جنگ کر کے زیادہ ثواب کمانا چاہتے ہیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے پاکستان کے تکفیری وہابیوں کے بارے میں ایک مقالہ منتشر کر کے لکھا ہے کہ پاکستان کے افراطی مسلمان بعض عرب ممالک کی مالی حمایت میں شام میں مسلح افراد کے ساتھ ملحق ہو رہے ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ اس گروہ کے سلیمان نامی ایک شخص کا کہنا ہے: ہم کئی سال سے پاکستان میں شیعوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں اور اب ہم شام میں حکومت مخالف افراد کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں چونکہ شام میں رہ کر شیعوں کے خلاف جنگ کرنے کا زیادہ ثواب ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے مزید لکھا ہے: سلیمان کی طرح اس گروپ کے بہت سارے افراد معتقد ہیں کہ ان کے اوپر واجب ہے کہ وہ شام میں اہل سنت کی مدد کر کے اس ملک کے نظام کو شکست دیں۔ اس اخبار نے اس گروہ کی باتوں سے استناد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کا ہیڈ کواٹر افغانستان کے سرحدی علاقے قبلیہ میں ہے وہاں سے انہیں شام کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ اس گروہ میں القاعدہ، طالبان اور لشکر جھنگوی کے افراد شامل ہیں۔اس اخبار نے مزید بیان کیا ہے کہ سلیمان کا کہنا تھا: ’’ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ شیعوں کے خلاف جنگ کرنا اور انہیں ختم کرنا۔ اس کے علاوہ کہیں پر بھی ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے‘‘۔اس گروہ کے ایک فرد حمزہ نے اس نیوز ایجنسی کو بتایا: ’’پاکستان سے شام جانے  والے مجاہدین زیادہ تر بلوچستان سے کشتیوں کے ذریعے مسقط اور وہاں سے شام میں داخل ہوتے ہیں یا پھر سری لنکا، بنگلادیش، امارات اور سوڈٓان سے ہو کر شام جاتے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ اس کے باوجود کہ پاکستان اس ملک کے افراد کی شام میں دخالت کی تردید کر رہا ہے پاکستانی طالبان مختلف راستوں سے شام میں مسلح افراد کی مدد کرنے پہنچ گئے ہیں اور انہیں سعودی عرب نے اسلحہ فراہم کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲