13 جولائی 2013 - 19:30
شیعہ سنی مشترکہ تحقیقاتی مراکز قائم کرکے چھپے علمی خزانے سامنے لاسکتے ہیں

مفتی خان محمد قادری نے شیعہ علماء سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمام تفاسیر قرآنی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے موجود ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید علی علیہ السلام سے سیکھا ہے، اب شیعہ علماء بتائیں کہ تفسیر علی (ع) کسی نے اکٹھی کی یا نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اہل سنت حضرت علی علیہ السلام کی ولایت پر شیعہ سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے، اختلاف صرف ظاہری خلافت پر ہے۔

ابنا: جامعہ منہاج الحسین لاہور میں حسینی ریسرچ سنٹر برطانیہ کی زیرنگرانی آیت اللہ محمد صادق الکرباسی کی تدوین کردہ حسینی انسائیکلوپیڈیا کی روشنی میں دو روزہ بین الاقوامی امام حسین علیہ السلام کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے مذہبی اسکالرز اور محققین شریک ہوئے۔ کانفرنس سے عراق سے حجتہ الاسلام الشیخ فاضل الخطیب، جرمنی سے انسانی حقوق کے متحرک کارکن ڈاکٹر عینن اولف، اہل سنت کے معروف عالم جامعہ اسلامیہ لاہور کے پرنسپل مفتی خان محمد قادری، جعفریہ الائنس کے سربراہ سابق سینیٹر مولانا عباس کمیلی، سابق وفاقی سیکرٹری مذہبی امور آغا سرور رضا قزلباش، ہندو پنڈت بھگت لعل، خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران لاہور کے سرپرست ڈاکٹر عبدالرضا سلطانی، جنرل (ر) سہیل عباس جعفری، ادارہ منہاج الحسین کے سربراہ مولانا محمد حسین اکبر، آغا سلمان باقر، سنی اتحاد کونسل کے رہنما پیر سید محفوظ مشہدی اور دیگر نے خطاب کیا۔

عراق سے تشریف لائے حجتہ الاسلام شیخ فاضل الخطیب نے کہا کہ امام حسین (ع) کی تحریک کربلا نے شیطانی اور رحمانی قوتوں کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی یزید ملعون کے خلاف جنگ نے پیغام دیا ہے کہ باطل اور ظالموں کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جاسکتا، قیام صرف راہ خدا میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ محمد صادق الکرباسی حسینی انسائیکلوپیڈیا کے مصنف ہیں۔ جنہوں نے حوزہ ہائے قم اور نجف میں تعلیم حاصل کی اور اب برطانیہ میں مقیم ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا عربی زبان میں ہے۔ جس کا ترجمہ فارسی، انگلش، اردو، پشتو اور دیگر زبانوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔

مفتی خان محمد قادری نے 750 جلدوں پر مشتمل آیت اللہ محمد صادق الکرباسی کے تدوین کردہ حسینی انسائیکلوپیڈیا کو معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی فروعی اختلافات سے نکل کر مشترکہ تحقیقاتی مراکز قائم کریں تو علم کے چھپے خزانے عوام کے سامنے لائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے شیعہ علماء سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمام تفاسیر قرآنی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے موجود ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید علی علیہ السلام سے سیکھا ہے، اب شیعہ علماء بتائیں کہ تفسیر علی (ع) کسی نے اکٹھی کی یا نہیں؟ انہوں نے کانفرنس میں بتایا کہ تفسیر علی (ع) کی تدوین کا کام راولپنڈی کے ایک سنی عالم نے شروع کر رکھا ہے، جو بہت جلد شائع کی جائے گی۔ مفتی خان محمد قادری کا کہنا تھا کہ اہل سنت حضرت علی علیہ السلام کی ولایت پر شیعہ سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے، اختلاف صرف ظاہری خلافت پر ہے۔

مولانا عباس کمیلی نے کہا کہ حضرت امام حسین (ع) کی جنگ حصول اقتدار نہیں بلکہ اسلام اور انسانیت کی بقا کی جنگ تھی۔ انہوں نے اس ابہام کو دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ حق وہ ہے، جس پر حسین ابن علی (ع) ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کسی ایک فرقے کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے امام ہیں۔ مولانا کمیلی نے کہا کہ کربلا نے اسلام کو زندہ کیا ہے لیکن کربلا کو زندہ کرنے والی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا بنت علی (ع) ہیں، جن کے درباروں اور بازاروں میں خطبات نے انقلاب پیدا کیا۔ اسی وجہ سے استعماری قوتوں کے اشارے پر تکفیری گروہ روضہ اقدس بی بی زنیب (س) کو دو سال سے مسمار کرنے کی ناپاک کوشش کر رہا ہے۔

امام حسین (ع) کانفرنس سے علامہ محمد حسین اکبر نے خطبہ استقبالیہ میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دنیا کا مستقبل کربلا سے وابستہ ہے چونکہ امام حسین (ع) انسانیت کے لئے نقطہ وحدت و اتحاد ہیں۔

خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران لاہور کے سرپرست عبدالرضا سلطانی نے خطبات امام حسین (ع) کی تشریح کرتے ہوئے یزید کے مقابلے میں قیام امام حسین علیہ السلام کے مقاصد بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین (ع) کی زندگی، شناخت اور قیام نے حقیقی اسلام کو زندہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امام علیہ السلام نے تعلیمات رسول (ص) پر عمل کروایا۔ اپنی زندگی کو اسلام کے لئے وقف کیا اور مظلوم کو اس کا حق دلوایا۔

سابق وفاقی سیکرٹری مذہبی امور آغا سرور رضا قزلباش نے کہا کہ امام حسین (ع) کی ولادت کا جشن اور شہادت کا سوگ دنیا بھر میں بلاتفریق مذہب و مسلک منایا جاتا ہے۔ انہوں نے آیت اللہ محمد صادق الکرباسی کو حسینی انسائیکلوپیڈیا تحریر کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ اسے تمام لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی او جرمن فاونڈیشن کے رہنما ڈاکڑ اینین اولف نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے جنگ کی۔ ہمیں بھی ان کی پیروی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہندو پنڈت بھگت لعل نے ہندو شعرا کے کلام کے ذریعے امام حسین (ع) کو نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ امام حسین (ع) اور آل محمد (ص) کے خون سے کسی ہندو نے ہاتھ نہیں رنگے۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسین (ع) نے اپنی اور خانوادہ رسول (ص) کی قربانی دیکر باطل کو ہلا دیا اور حق کا علم بلند کیا۔ پنڈت نے خود کو حسینی برہمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام نے کرسی کے لیے نہیں، آیتہ الکرسی کے تحفظ کی جنگ لڑی۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ انار کلی لاہور کے مندر میں تاریخ کی پہلی میلاد مصطفٰے 2012ء میں تحریک منہاج القرآن کے تعاون سے ان کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ پنڈت نے امام حسین (ع) کو منظوم نذرانہ عقیدت ان الفاظ میں پیش کیا: خدا کی خاص عطا ہیں، حسین (ع) نبی پاک کی دعا ہیں، حسین (ع)یزیدیت کی فنا ہیں، حسین (ع)

.....

/169