10 جولائی 2013 - 19:30

مصر میں عام تاثر یہ ہے کہ حالات دوبارہ مغرب اور اسرائیل کے حامی سابق آمر حسنی مبارک کے دور جیسے ہو رہے ہیں کہ جب ملک میں کسی بھی طرح کی سیاسی آزادی نہیں تھی اور صیہونی حکومت و امریکہ کے منافع کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں وضع کی جاتی تھیں۔

ابنا: حسنی مبارک کے دور میں اخوان المسلمین پر پابندی تھی اور اس کے اراکین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔دوسری جانب مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعطی کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق صدر محمد مرسی پر ابھی تک الزامات عائد نہیں کیے گئے ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر مرسی کہاں ہیں لیکن مرسی کو بہت باعزت طریقے سے رکھا گیا ہے۔انھوں نے قاہرہ میں صدارتی گارڈ میں صدر مرسی کی موجودگی کی تردید کی ہے۔در ایں اثناء مصر میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔محمد بدیع پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پیر کو قاہرہ میں محمد مرسی حامی مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر حملے کے لیے اکسایا تھا، جس کے بعد فوج کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ میں 84 افراد مارے گئے۔صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے قائد اور کئی اعلیٰ رہنما اس وقت حراست میں ہیں جبکہ سینکڑوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔پراسکیوٹر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 200 افراد کو مزید پندرہ دن تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ قتل، تشدد، غیر قانونی آسلحہ رکھنے کی تحقیقات کی جا سکیں جبکہ مظاہروں میں گرفتار ہونے والے 450 افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔پیر کو مظاہرین پر فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ پریس ٹی وی نے قاہرہ کے ہسپتال ذرائع کے حوالے سے یہ تعداد 84 بتائی ہے۔گزشتہ روز مصر کی انسانی حقوق کی علمبردار پندرہ تنظیموں نے اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف طاقت کے غیر ضروری استعمال کی شدید مذمت کی اور پیر کو ہونے والے واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔سابق صدر کی حمایت میں جاری مظاہروں کا دائرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور مظاہروں نیا دور شروع ہو گیا ہے جس کے بعد مصر میں مزید خون ریزی کا امکان ہے۔مصر کے عبوری وزیراعظم نے نئی کابینہ میں اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی اور سلفی نور پارٹی کو وزاتوں کی پیشکش کی تھی تاہم دونوں جماعتوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔اخوان المسلمین کے ایک سینئیر اہلکار کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت تک کابینہ میں کوئی عہدہ قبول نہیں کریں گے جب تک محمد مرسی کی صدارت بحال نہیں کی جاتی۔دوسری جانب مصر میں فوجی بغاوت کی حمایت کرتے ہوئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے مصر کو تیل اور گیس سمیت 12 ارب ڈالر مالیت قرضے اور گرانٹس دینے کا اعلان کیا۔......./169