ابنا: امریکہ کے جاسوسی ادارے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے جاسوسی کا سافٹ ویئر اسٹکس نیٹ تیار کرنے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ ایڈورڈ اسنوڈن نے جرمن جریدے اشپیگل سے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی این ایس اے نے خارجی امور کے ادارے کے نام سے اپنے ایک ذیلی ادارے کے ذریعے اسٹکس نیٹ کی تیاری میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا ہے۔البتہ اشپیگل کے ساتھ اسنوڈن کے انٹرویو سے قبل جاسوسی کے ایک انتہائي تباہ کن سافٹ ویئر کی تیاری میں امریکہ اور اسرائیل کے سرکاری اداروں کے کردار اور تعاون کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود تھے۔ ان حالات میں امریکہ کے اس تیس سالہ نوجوان کی این ایس اے کی انتہائي خفیہ دستاویزات تک رسائی نے اسٹکس نیٹ کی تیاری کے بارے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔ اس کمپیوٹر پروگرام کے بارے میں پہلے یہ خيال کیا جاتا تھا کہ اس کا کام اسلامی جمہوریہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہے لیکن درحقیقت یہ تخریب کاری کے لیے تیار کیا گيا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سائبر حملے کے بعد ایران کا ایٹمی ایندھن تیار کرنے کی بعض سینٹری فیوج مشینوں کے کام میں خلل پیدا ہوا لیکن اسٹاکس نیٹ کے حملے کی مانند سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیت و طاقت نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو روکنے کا امکان ختم کر دیا۔ اس میں کوئي شک و شبہ نہیں ہے کہ امریکیوں اور اسرائیلیوں نےاسٹاکس نیٹ کا استعمال کر کے انسانی جنگوں کی تاريخ میں ایک نئي جنگ کا آغاز کیا۔اسٹکس نیٹ کی سرگرمیوں کے انکشاف سے قبل ایسا لگتا تھا کہ سائبر حملے صرف معلومات چرانے اور جاسوسی کے لیے کیے جاتے ہیں لیکن اسٹاکس نیٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد واضح ہو گيا کہ سائبر حملے کرنے والے اس بات پر قادر ہوں گے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ملکوں کے اقتصادی اور صنعتی بنیادی ڈھانچے میں تخریب کاری کر سکیں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں ایٹمی تنصیبات میں دھماکے، نقل و حمل کے نیٹ ورک میں خلل یا پانی و بجلی کے نظام کو بند کرنے جیسے ہولناک اقدامات انجام دے سکیں۔ان میں سے کوئي بھی واقعہ ایک بھرپور فوجی حملے کے برابر جانی و مالی نقصان کر سکتا ہے۔ جبکہ اسٹاکس نیٹ کو بنانے والے یعنی امریکہ اور اسرائیل کی حکومتیں ہمیشہ انٹرنیٹ حملوں سے پیدا ہونے والے نقصانات کے بارے میں بات کرتی رہتی ہیں اور دوسروں پر سائبر جنگ شروع کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔ اس قسم کے طرزعمل کے باوجود ایک عرصہ پہلے ہی واضح ہو گيا تھا کہ اسٹاکس نیٹ، اسٹارس یا فلیم جیسے جاسوسی کے سافٹ ویئر کی تیاری، عام ہیکروں، نجی کمپنیوں حتی ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کے بس کی بات نہیں ہے اور صرف صنعتی ممالک کی حکومتیں ہی کمپیوٹر کی صنعت میں وسیع صلاحیت اور تجربے کی وجہ سے ایسے پروگرام تیار کر سکتی ہیں۔ اس وقت اسنوڈن کے انکشافات سے ثابت ہو گيا ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کا خفیہ ترین رکن یعنی این ایس اے اسٹکس نیٹ کی تیاری کے پیچھے تھا اور اس نے اس سلسلے میں اسرائيل تعاون سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ بہرحال اس وقت سائبر جنگوں کا جن امریکیوں کی کوشش سے بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ ایک بار پہلے بھی ستر سال قبل امریکیوں نے یہی کارنامہ انجام دیا تھا اور جاپان کے ساتھ جنگ میں ایٹم بم کا استعمال کر کے ایٹمی جن کو بوتل سے باہر نکال دیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ جن نہ صرف پھر دوبارہ بوتل کے اندر نہیں گيا بلکہ اس نے اپنی نسل کو آگے بڑھا کر دنیا کو مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کی نئي نسل تیار کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں حتی اگر اس پیسے کا ایک تھوڑا سا حصہ غربت، بھوک، بیماری اور بدامنی کا مقابلہ کرنے کے لیے خرچ کیا جاتا تو اکیسویں صدی کے آغاز پر انسانوں کی زندگی کہیں بہتر ہوتی۔بہرحال جیسا کہ دنیا نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں امریکیوں کی بےتدبیری کا ہرجانہ اور تاوان ادا کیا ہے اسی طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ اسٹکس نیٹ جیسے سائبر ہتھیاروں کے استعمال میں ان کی بےتدبیری کی قیمت بھی بالآخر امریکی شہریوں سمیت عالمی برادری کو چکانی ہو گی اور اس سے دنیا مزید ناامن اور خطرناک ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
9 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 439108
امریکہ کے جاسوسی ادارے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے جاسوسی کا سافٹ ویئر اسٹکس نیٹ تیار کرنے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا ہے۔