3 جولائی 2013 - 19:30
مصر کے بعد تيونس ميں تحريک تمرد

مصر کے بعد تيونس ميں نوجوانوں کے ايک گروہ نے سيول نافرماني اور تحريک تمرد شروع کرنے کا اعلان کرديا ہے -

ابنا: مصر کے بعد تيونس ميں بھي سيول نافرماني اور تحريک تمرد شروع کرنے کا اعلان کرديا گيا ہے - تيونسي نوجوانوں کے ايک گروہ نے موجودہ حکمرانوں کے خلاف دستخطي مہم شروع کردي ہے - تيونس کے ان نوجوانوں کا کہنا ہے  کہ ان کا مقصد انقلاب کو اس کے اصل راستے پر لانا ہے-تيونس کي تحريک تمرد کے ترجمان محمد بنور نے کہا ہے کہ ہم نے مصر کے نوجوانوں کي تحريک سے متاثر ہوکے تيونس ميں بھي، انقلاب کو در انداز عناصر پاک کرنے اور انقلاب کو اس کے اصل راستے پر لانے کے لئے  تحريک تمرد شروع کرنے کا فيصلہ کيا ہے -تيونس کي تحريک تمرد نے اعلان کيا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف اب تک پانچ لاکھ اکہتر ہزار دستخط جمع ہوچکے ہيں - اس تحريک نے اعلان کيا ہے کہ دستخط جمع کرنا اس تحريک کا پہلا مرحلہ ہے اور بعد کے مرحلے ميں مختلف شہروں کے چوراہوں پر اجتماعات اور مظاہروں کا اہتمام کيا جائے گا -تيونس کي تحريک تمرد کا پہلا مطالبہ آئين ساز اسمبلي کي تحليل ہے جو انقلاب کے بعد واحد قانون ساز ادارہ ہے –تحريک نے اعلان کيا ہے کہ آئين ساز اسمبلي کي تحليل کے بعد قانوني امور کے ماہرين پر مشتمل ايک کميشن تشکيل ديا جائے گا - اس ميں شک نہيں کہ تيونس ميں انقلاب کے بعد برسراقتدار آنے والے حکمراں  عوام کو مطمئن کرنے ميں ناکام رہے ہيں، ليکن تيونس ميں جہاں انقلاب کي جڑيں مضبوط نہيں ہوسکي ہيں، مصر کے طرز  پر تحريک تمرد جيسي کسي تحريک کا وجود ميں آنا انقلاب کے لئے خطرناک  ہوگا -تيونس ميں لبرل اور سيکولر تنظيموں نے عوام سے ملين مارچ کي اپيل  کي ہے  اور آئين ساز اسمبلي کے بعض اراکين نے بھي اس کي حمايت کا اعلان کيا ہے - محمد البراہيمي آئين ساز اسمبلي کے ان اراکين ميں سے ہيں جنہوں نے ملين مارچ کي حمايت کا اعلان کيا ہے - انہوں نے کہا ہے کہ تيونس ميں ضروري سياسي اصلاحات اور النہضہ پارٹي کے تسلط کو روکنے کا واحد راستہ پر امن مظاہروں اور اجتماعات کا انعقاد ہے - اس کے جواب ميں تيونس کي حکمراں النہضہ پارٹي نے ايک بيان جاري کرکے عوام سے اپيل کي ہے کہ قانون کي پابندي کريں اور مسائل کے حل کے لئے گفتگو اور مذاکرات کا راستہ اختيار کريں - تيونس ميں انقلاب کو ڈھائي سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد اب بھي عوام کے بہت سے مطالبات پورے نہيں ہوسکے ہيں  جن ميں اقتصادي اور معاشي حالات کا  سدھارپہلا اور  سب سے اہم مطالبہ ہے  ليکن تيونس کے معاشي حالات بتاتے ہيں کہ اس سلسلے ميں کوئي پيشرفت نہيں ہوئي ہے جو عوام کي ناراضگي کي سب سے بڑي وجہ ہے - اس درميان آئين ساز اسمبلي ميں مختلف گروہوں کے درميان اختلاف نے بھي حکومت کے لئے مشکلات پيدار کرنے کے ساتھ ہي عوام کي ناراضگي بڑھنے کے اسباب فراہم کئے ہيں –  النہضہ پارٹي تيونس ميں صرف  پارلماني نظام حکومت چاہتي ہے ليکن ريپبليکن کانگرس اور التکتل پارٹي صدارتي پارليماني نظام حکومت کے حق ميں ہيں-اس مسئلے ميں النہضہ پارٹي اور اس کي مخالف جماعتوں کے درميان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہيں کہ مخالف پارٹيوں نے الہنضہ پارٹي پر امور مملکت چلانے ميں خودسري کا الزام بھي لگايا ہے - آئين ساز اسمبلي ميں اس اختلاف نے حالات کو اس موڑ تک پہنچايا ہے کہ  بعض قوم پرست تنظيموں نے سيول نافرماني اور تحريک تمرد شروع کرنے کا اعلان کرديا ہے-بعض رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ تيونس کي سابق آمر حکومت کي باقيات اور ان سے وابستہ افراد بھي اس تحريک ميں شامل ہيں -...../169