1 جولائی 2013 - 19:30
مصری صدر نے فوجی الٹی میٹم مسترد کر دیا، فوج کی وضاحت

مصری صدر محمد مرسی نے موجودہ قومی بحران کو حل کرنے کے لئے فوج کی جانب سے دیے گئے 48 گھنٹوں کے الٹی میٹم کو مسترد کردیا ہے۔

ابنا: قاہرہ میں صدارتی دفتر کا خیال ہے کہ فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کچھ چیزیں تشویشناک ہیں۔واضح رہے کہ مصری فوج کے سربراہ نے ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور سیاسی مخالفین کو اڑتالیس گھنٹوں کا وقت دیا تھا۔ فوج کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر دونوں فریقوں نے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں اپنے معاملات طے نہ کیے تو فوج ایک ’روڈ میپ‘ پیش کرے گی۔اتوار کو مصر میں صدر محمد مرسی کے اقتدار کے ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر ان کے اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مظاہروں کے شروع ہونے کے ایک روز بعد قاہرہ میں صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا گیا۔ اخوان المسلمین کے دفتر کے باہر ہونے والے تصادم میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مصری فوج نے اپنے اس متنازعہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد فوجی بغاوت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں پر موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دینا ہے۔منگل کو فوج کے ترجمان کے فیس بک کے صفحے پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیان کا مقصد سیاسی جماعتوں پر زور دینا تھا کہ کشیدگی کو ختم کرنے اور لوگوں کے مطالبات پورا کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے قائم کرے۔بیان کے مطابق عسکری قیادت فوجی بغاوت کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج 1977، 1986 اور 2011 میں مصر کی گلیوں میں رہی لیکن فوجی بغاوت نہیں کی۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج ہمیشہ لوگوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔مصر بھر میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی حکومت اپنی ایک سال کی مدت کے دوران معاشی اور سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔جبکہ صدر مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے انہیں اس کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔......./169