اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ محمد مرسی کو جو گزشتہ سال مصر میں الیکشن کے ذریعے بعنوان صدر منتخب ہوئے رسمی طور پر صدر تسلیم کرتا ہے لیکن بظاہر ان کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی مخالفت کے لیے تیار ہے ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن مصر میں نظام کو فوجی کونسل کی طرف منتقلی کو بہتر سمجھتا ہے چونکہ مصر کی فوج سے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ موجودہ شرائط میں جبکہ اس ملک کا وزیر خارجہ محمد کامل عمرو بھی استعفی دے چکا ہے مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات کے چینلز مشکلات سے دوچار ہیں۔ بہرصورت امریکہ اس وقت مصر میں تشدد اور افراتفری کا خواہاں نہیں ہے اسی وجہ سے وہ موجودہ تعطل سے باہر نکلنے کے لیے احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ ادھر حکومت کے خلاف لاکھوں افراد کے اٹھ کھڑے ہونے سے اخوان المسلمین تناقض گوئی کا شکار ہو گئے ہیں ایک طرف سے ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی چال ہے کہ اس نے عوام کو جمہوری حکومت کے خلاف اکسایا ہے دوسری طرف سے مصری فوج کو دھمکا رہے ہیں کہ اگر فوج سیاسی امور میں دخالت کرے گی تو امریکہ فوج کو اپنی امداد رسانی کا سلسلہ بند کر دے گا۔ حالیہ بحران میں اخوان المسلمین کی پوری کوشش یہ ہے کہ بہر صورت امریکہ کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کریں اور واشنگٹن کو محمد مرسی کا حامی نمایاں کریں تاکہ پارلیمنٹ میں سیکولار قسم کے لوگ اپنے عہدوں پر باقی رہیں۔محمد مرسی اور باراک اوبامہ کی آج صبح ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وائٹ ہاوس مصر کے اخوان المسلمین کے درمیان کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے وہ بخوبی ان کے درمیان رد و بدل کر سکتا ہے۔ مصر کے لوگ پہلے سے اس نکتہ کی طرف متوجہ تھے جس کی بنا پر انہوں نے قبل از وقت مرسی کو اقتدار کی کرسی سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
1 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 436097
مصر کے صدر جمہوریہ محمد مرسی اور ان کے حامی اخوان المسلمین نے اپنی نجات کے لیے امریکہ کے سامنے ہاتھ پھیلا دئے ہیں کہ باراک اوبامہ مصر میں موجود حالات کے پیش نظر صدر جمہوریہ کی حمایت کرے۔