1 جولائی 2013 - 19:30
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گذشتہ دو ایک برسوں سےمختلف دلائل خصوصا دہشت گردی کے بارے میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس سخت بیان کے بعد کہ پاکستان سے ہی دہشت گردی پھیل رہی ہے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ جبکہ کیمرون افغانستان کے سفر کے بعد پاکستان اس لئے پہونچے ہیں تاکہ پاکستانی حکا م سے ملاقات کے ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کرسکیں گے ۔

ابنا: برطانوی وزیر اعظم  نےاس سے قبل اپنے فوجیوں کی ملاقات اورجائزہ لینے کے لئے افغانستان کا سفر کیا تھا۔ ڈيوڈ کمیرون نے ہفتے کے دن کابل میں افغان صدر سے مشترک کانفرنس میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ افغانستان میں چارسو  چوالیس برطانوی فوجی مارے جاچکے ہیں کہا کہ اس وقت تین لاکھ چالیس ہزار افغان فوجی اپنے ملک کی سیکورٹی سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم افغانستان کی سیکورٹی کو افغان فوجیوں کےحوالے کرنے کا استقبال کرتے ہیں ۔ انھوں  نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ افغانستان میں اب بھی بعض مشکلات موجود ہیں طالبان گروہ سے کہا ہے کہ  وہ اپنے ہتھیار زمین پر رکھدیں اور سیاسی مذاکرات میں شامل ہوجائیں ، کیمرون کے بیان میں اہم نکتہ افغانستان وپاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر تاکید ہے ۔ ان کی  نظر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام خاص طورپر پاکستان  کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور یہ تعلقات کابل اسلام آباد کے مفادات کے لئے  مفید ہوں گے ۔
اسلام  آباد لندن کے تعلقات دسمبر دوہزار گیارہ میں کیمرون کے دورہ ہندوستان کے موقع پر پاکستان کے بارے میں ان کے بیان کے بعد سرد مہری کے شکار ہوگئے تھے ۔ برطانوی وزیر اعظم نے دورہ ہندوستان کے  موقع پردہلی اور اسلام آبادکے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں پاکستان پر دہشت گردی کے پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات موجود ہیں ۔ کیمرون نے کہا تھا کہ  پاکستان نے  اپنے مغربی اتحادیوں اور ان کے مخالف گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کررکھے ہیں ۔ کیمرون کے اس بیان سے پاکستان کی قوم اور حکام سخت ناراض ہوگئے ، اسلام آباد  نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم نے یہ بیان امریکی فوجی سائٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد جسے  ویکی لکس نے شائع کیا تھا متائثر ہوکر دیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ کیمرون نے فروری دوہزار تیرہ میں لندن میں افغانستان ، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سہ فریقی نشست کا اہتمام کیا تھا ۔اس سہ فریقی اجلاس میں افغاستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں سیکورٹی اور دوہزار چودہ میں افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلاء کے بعد پھر سے طالبان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا تھا ، طرفین کے درمیان اہم ترین  موضوع افغان امن منصوبے میں طالبان کی شرکت کاتھا ۔ کیمرون نے لندن اجلاس کے آخر میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے سربراہان سے ملاقات میں یہ طے پایا کہ طالبان کے ساتھ امن منصوبہ کے بارے میں حکومت کابل کی قیادت میں گفتگو کی جائے ۔ ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ بھی امریکہ کی طرح مستقبل میں  افغانستان کی صورت حال سے واقف ہے اور اچھی طرح سے جانتا ہے کہ افغان امن منصوبے میں طالبان کی حمایت یا عدم حمایت  کے بارے میں پاکستان کا کردار  بہت اہم ہے ۔ امریکہ اور برطانیہ حکومت افغانستان کو کمزور اور اس ملک میں بدامنی میں اضافہ  کے سلسلے میں پاکستان پر طالبان کی حمایت کا کئی بار الزام لگا چکے ہیں ، اس کے باوجود کیمرون  کا دورہ پاکستان حکومت پاکستان کے ساتھ صلاح ومشورے اور نئےسمجھوتوں کے تحت افغانستان میں نیٹو کے اقدامات  کی حمایت اور پاکستانی حکام کو طالبان کی حمایت ختم کرنے کی ترغیب دلانے کی کوششوں پر منتج ہوسکتے ہیں۔
 
 
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گذشتہ دو ایک برسوں سےمختلف دلائل خصوصا دہشت گردی کے بارے میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس سخت بیان کے بعد کہ پاکستان سے ہی دہشت گردی پھیل رہی ہے دونوں ملکوں کے تعلقات  میں کشیدگی  رہی ہے۔ جبکہ کیمرون افغانستان کے سفر کے بعد پاکستان اس لئے پہونچے ہیں تاکہ پاکستانی حکا م سے ملاقات کے ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کرسکیں ۔ گے ۔ 
برطانوی وزیر اعظم  نےاس سے قبل اپنے فوجیوں کی ملاقات اورجائزہ لینے کے لئے افغانستان کا سفر کیا تھا۔ ڈيوڈ کمیرون نے ہفتے کے دن کابل میں افغان صدر سے مشترک کانفرنس میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ افغانستان میں چارسو  چوالیس برطانوی فوجی مارے جاچکے ہیں کہا کہ اس وقت تین لاکھ چالیس ہزار افغان فوجی اپنے ملک کی سیکورٹی سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم افغانستان کی سیکورٹی کو افغان فوجیوں کےحوالے کرنے کا استقبال کرتے ہیں ۔ انھوں  نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ افغانستان میں اب بھی بعض مشکلات موجود ہیں طالبان گروہ سے کہا ہے کہ  وہ اپنے ہتھیار زمین پر رکھدیں اور سیاسی مذاکرات میں شامل ہوجائیں ، کیمرون کے بیان میں اہم نکتہ افغانستان وپاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر تاکید ہے ۔ ان کی  نظر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام خاص طورپر پاکستان  کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور یہ تعلقات کابل اسلام آباد کے مفادات کے لئے  مفید ہوں گے ۔
اسلام  آباد لندن کے تعلقات دسمبر دوہزار گیارہ میں کیمرون کے دورہ ہندوستان کے موقع پر پاکستان کے بارے میں ان کے بیان کے بعد سرد مہری کے شکار ہوگئے تھے ۔ برطانوی وزیر اعظم نے دورہ ہندوستان کے  موقع پردہلی اور اسلام آبادکے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں پاکستان پر دہشت گردی کے پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات موجود ہیں ۔ کیمرون نے کہا تھا کہ  پاکستان نے  اپنے مغربی اتحادیوں اور ان کے مخالف گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کررکھے ہیں ۔ کیمرون کے اس بیان سے پاکستان کی قوم اور حکام سخت ناراض ہوگئے ، اسلام آباد  نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم نے یہ بیان امریکی فوجی سائٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد جسے  ویکی لکس نے شائع کیا تھا متائثر ہوکر دیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ کیمرون نے فروری دوہزار تیرہ میں لندن میں افغانستان ، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سہ فریقی نشست کا اہتمام کیا تھا ۔اس سہ فریقی اجلاس میں افغاستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں سیکورٹی اور دوہزار چودہ میں افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلاء کے بعد پھر سے طالبان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا تھا ، طرفین کے درمیان اہم ترین  موضوع افغان امن منصوبے میں طالبان کی شرکت کاتھا ۔ کیمرون نے لندن اجلاس کے آخر میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے سربراہان سے ملاقات میں یہ طے پایا کہ طالبان کے ساتھ امن منصوبہ کے بارے میں حکومت کابل کی قیادت میں گفتگو کی جائے ۔ ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ بھی امریکہ کی طرح مستقبل میں  افغانستان کی صورت حال سے واقف ہے اور اچھی طرح سے جانتا ہے کہ افغان امن منصوبے میں طالبان کی حمایت یا عدم حمایت  کے بارے میں پاکستان کا کردار  بہت اہم ہے ۔ امریکہ اور برطانیہ حکومت افغانستان کو کمزور اور اس ملک میں بدامنی میں اضافہ  کے سلسلے میں پاکستان پر طالبان کی حمایت کا کئی بار الزام لگا چکے ہیں ، اس کے باوجود کیمرون  کا دورہ پاکستان حکومت پاکستان کے ساتھ صلاح ومشورے اور نئےسمجھوتوں کے تحت افغانستان میں نیٹو کے اقدامات  کی حمایت اور پاکستانی حکام کو طالبان کی حمایت ختم کرنے کی ترغیب دلانے کی کوششوں پر منتج ہوسکتے ہیں۔
 
 پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گذشتہ دو ایک برسوں سےمختلف دلائل خصوصا دہشت گردی کے بارے میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس سخت بیان کے بعد کہ پاکستان سے ہی دہشت گردی پھیل رہی ہے دونوں ملکوں کے تعلقات  میں کشیدگی  رہی ہے۔ جبکہ کیمرون افغانستان کے سفر کے بعد پاکستان اس لئے پہونچے ہیں تاکہ پاکستانی حکا م سے ملاقات کے ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کرسکیں ۔ گے ۔ 
برطانوی وزیر اعظم  نےاس سے قبل اپنے فوجیوں کی ملاقات اورجائزہ لینے کے لئے افغانستان کا سفر کیا تھا۔ ڈيوڈ کمیرون نے ہفتے کے دن کابل میں افغان صدر سے مشترک کانفرنس میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ افغانستان میں چارسو  چوالیس برطانوی فوجی مارے جاچکے ہیں کہا کہ اس وقت تین لاکھ چالیس ہزار افغان فوجی اپنے ملک کی سیکورٹی سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم افغانستان کی سیکورٹی کو افغان فوجیوں کےحوالے کرنے کا استقبال کرتے ہیں ۔ انھوں  نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ افغانستان میں اب بھی بعض مشکلات موجود ہیں طالبان گروہ سے کہا ہے کہ  وہ اپنے ہتھیار زمین پر رکھدیں اور سیاسی مذاکرات میں شامل ہوجائیں ، کیمرون کے بیان میں اہم نکتہ افغانستان وپاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر تاکید ہے ۔ ان کی  نظر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام خاص طورپر پاکستان  کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور یہ تعلقات کابل اسلام آباد کے مفادات کے لئے  مفید ہوں گے ۔
اسلام  آباد لندن کے تعلقات دسمبر دوہزار گیارہ میں کیمرون کے دورہ ہندوستان کے موقع پر پاکستان کے بارے میں ان کے بیان کے بعد سرد مہری کے شکار ہوگئے تھے ۔ برطانوی وزیر اعظم نے دورہ ہندوستان کے  موقع پردہلی اور اسلام آبادکے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں پاکستان پر دہشت گردی کے پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات موجود ہیں ۔ کیمرون نے کہا تھا کہ  پاکستان نے  اپنے مغربی اتحادیوں اور ان کے مخالف گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کررکھے ہیں ۔ کیمرون کے اس بیان سے پاکستان کی قوم اور حکام سخت ناراض ہوگئے ، اسلام آباد  نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم نے یہ بیان امریکی فوجی سائٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد جسے  ویکی لکس نے شائع کیا تھا متائثر ہوکر دیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ کیمرون نے فروری دوہزار تیرہ میں لندن میں افغانستان ، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سہ فریقی نشست کا اہتمام کیا تھا ۔اس سہ فریقی اجلاس میں افغاستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں سیکورٹی اور دوہزار چودہ میں افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلاء کے بعد پھر سے طالبان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا تھا ، طرفین کے درمیان اہم ترین  موضوع افغان امن منصوبے میں طالبان کی شرکت کاتھا ۔ کیمرون نے لندن اجلاس کے آخر میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے سربراہان سے ملاقات میں یہ طے پایا کہ طالبان کے ساتھ امن منصوبہ کے بارے میں حکومت کابل کی قیادت میں گفتگو کی جائے ۔ ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ بھی امریکہ کی طرح مستقبل میں  افغانستان کی صورت حال سے واقف ہے اور اچھی طرح سے جانتا ہے کہ افغان امن منصوبے میں طالبان کی حمایت یا عدم حمایت  کے بارے میں پاکستان کا کردار  بہت اہم ہے ۔ امریکہ اور برطانیہ حکومت افغانستان کو کمزور اور اس ملک میں بدامنی میں اضافہ  کے سلسلے میں پاکستان پر طالبان کی حمایت کا کئی بار الزام لگا چکے ہیں ، اس کے باوجود کیمرون  کا دورہ پاکستان حکومت پاکستان کے ساتھ صلاح ومشورے اور نئےسمجھوتوں کے تحت افغانستان میں نیٹو کے اقدامات  کی حمایت اور پاکستانی حکام کو طالبان کی حمایت ختم کرنے کی ترغیب دلانے کی کوششوں پر منتج ہوسکتے ہیں۔
.....
/169