ابنا: گذشتہ روز صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے قریب علی آباد شہر کی ایک امام بار گاہ میں تکفیری دہشتگردوں نے خودکش حملہ کیا تھا جس میں تیس افراد شہید اور ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔پاکستان کی سول سوسائیٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہوں جیسے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کو بعض سرکاری حلقوں اور انٹلجنس عناصر کی حمایت حاصل ہے اور اسی بنا پر حکومت تکفیری دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا اور مذہبی رہنماوں کے مطابق حکومت پاکستان آج تک کسی تکفیری دہشتگرد کو گرچہ وہ دسیوں قتل اور دہشتگردانہ منصوبوں میں ملوث رہا ہو سزا نہیں دے سکی ہے۔ادھر اسلامی تحریک پاکستان کےسربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے کوئٹہ میں تکفیری دہشتگردی کے واقعے پررد عمل ظاہر کرتےہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئي فرقہ واریت نہیں بلکہ چند گروہوں کو ملک میں منافرت پھیلانےکے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ذمہ داران یہ بتانے سے قاصر ہيں کہ ان دہشتگردوں کی فیکٹریاں کہاں ہيں اور یہ کہاں پلتے ہیں۔ علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اختیارات نہیں کہ وہ دہشتگردی پرقابو پاسکیں اور نہ ہی سابقہ حکومتوں کے پاس تھے۔.....169
30 جون 2013 - 19:30
News ID: 435700
تکفیری دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی نے اتوار کو کوئیٹہ کے دہشتگردانہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔