28 جون 2013 - 19:30
مصر کے حالات بحرانی، مرسی بھی کشیدگی روکنے میں ناکام

مصر کے حالات بحراني ہوگئے ہيں اور صدر محمد مرسي کي حاليہ تقرير بھي کشيدگي دور کرنے ميں ناکام رہي ہے -

ابنا: قاہرہ کا  تحرير اسکوائر  ايک بار پھر عالمي توجہ کا مرکز بن گيا ہے-  صدر مرسي کے مخالفين تحرير اسکوائر پر  دھرنا ديئے بيٹھے ہيں اور رات دن ، کسي بھي وقت وہاں  سے ہٹنے کے لئے تيار نہيں ہيں -  مخالفين نے انقلاب کے زمانے کي طرح وہاں  خيمے نصب کررکھے ہيں - 
اسي کے ساتھ مصر کے تين صوبوں، الدقہليہ، الشرقيہ اور الغربيہ ميں صدر مرسي کے حاميوں اور مخالفين کے درميان جھڑپيں بھي ہوئي ہيں - ان جھڑپوں ميں کم سے کم دو افراد ہلاک اور تين سو سے زائد زخمي ہوئے ہيں -
يہ جھڑپيں ايسي حالت ميں ہوئي ہيں کہ صدر محمد مرسي نے اپني حکومت کي پہلي سالگرہ کي مناسبت سے ايک تقريب سے خطاب ميں اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ ان سے فيصلوں ميں کجھ غلطياں ہوئي ہيں - انہوں نے کہا کہ وہ ان غلطيوں کي تلافي کرنے کي کوشش کريں گے - انہوں نے اسي کے ساتھ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے قومي مذاکرات کي پيشکش بھي کي ہے - صدر مرسي نے کہا ہے کہ حکومت اور سياسي پارٹيوں کے نمائندوں پر مشتمل ايک کميٹي تشکيل دي جائے اور سياسي جماعتوں کے مطالبات اور تجاويز پر تبادلہ خيال کيا جائے ، ليکن ان کے مخالفين نے ان کي يہ پيشکش مسترد کردي ہے -
مصر کي "جميعت ملي تغيير" کے کوآرڈينيٹر احمد بہاء الدين شعبان نے کہا ہے کہ  حکومت کي غلطيوں اور مخالفين کے مطالبات کے جائزے کے لئےکميٹي تشکيل دينے کي صدر مرسي کي تجويز صرف نمائشي ہے،  ہم اس سے پہلے ان کي اس قسم کي تجويزوں کو آزما چکے ہيں -
نيشنل سالويشن فرنٹ کے ترجمان خالد داؤد نے صدر مرسي کي تقرير کے بارے ميں کہا کہ ان کي يہ تقرير بھي ماضي کي تقارير کي طرح ہے اور اس ميں کوئي نئ بات نہيں ہے  - 
مصر کي تمرد نامي پارٹي نے کہا  ہے کہ صدر مرسي نے اپني اس تقرير ميں بھي مخالفين پر حملے کئے ہيں اور ان پر جمہوريت کي دشمني کاالزام لگايا ہے  اور حکومت کي ناکاميوں پر پردہ ڈالنے کي کوشش کي ہے -
مصر کي چھے اپريل تحريک نامي گروہ نےبھي صدر مرسي کي تقرير کو شک کي نگاہ سے ديکھا ہے - 
مصر کي سياسي جماعتوں کا يہ ردعمل ايسي حالت ميں سامنے آيا ہے کہ تيس جون کو صدر مرسي کي حکومت کي پہلي سالگرہ پر، حکومت کے حاميوں کے ساتھ ہي مخالفين بھي اجتماعات اور مظاہروں کي تياري کررہے ہيں -
مصرکي غدالثورہ نامي پارٹي کے سربراہ ايمن نور نے صدر مرسي کي تقرير کو مايوس کن قرار ديتے ہوئے  اعلان کياہے  کہ تيس جون کو حکومت مخالف مظاہروں ميں ان کي جماعت کے کارکن بھي شرکت کريں گے-
صدر مرسي کي مخالف سب سے بڑي جماعت، نيشنل سالويشن فرنٹ نے ملک کے عوام سے اپيل کي ہے کہ تيس جون کو حکومت مخالف مظاہروں ميں شرکت کريں- 
 دوسري جانب ،   فوج نے ملک کي سلامتي خطرے ميں پڑنے کي جانب سے خبردار کرتے ہوئے اعلان کيا ہے کہ ان بحراني حالات ميں فوج مداخلت کرسکتي ہے-
بعض سياسي حلقوں نےمصر ميں موجود سياسي اختلافات،  کشيدہ صورتحال، اور حکومت کے حاميوں اور مخالفين کے درميان  ہونے والي جھڑپوں کے پيش نظر خبردار کياہے کہ  موجودہ صورتحال کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے ہيں اور انقلاب کو بچانے کا وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے
.......
/169