27 جون 2013 - 19:30
نائب وزیر خارجہ: عراق پر عائد پابندیوں میں کمی کا خیر مقدم

دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے بغداد پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیوں میں کمی پر ایران نے اپنے ہمسایہ ملک عراق کو مبارکباد دی ہے۔

ابنا: اگست 1990 میں ہمسایہ ملک کویت پر صدام حسین کی فوجوں کی چڑھائی کے بعد عراق کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں میں سے کچھ کو ختم کرنے کے لئے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ووٹ دیا۔جمعرات کی شب عرب اور افریقی امور میں ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے 7ویں بند سے نکلنے پر اس عرب ملک کو مبارکباد دی۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے چھٹے باب میں ممالک کے درمیان تنازعات کے پرامن حل پر تاکید کی گئی ہے، جبکہ ساتویں باب میں اقوام متحدہ کے مطالبات کو پورا نہیں کرنے کی صورت میں سلامتی کونسل کو پابندیاں عائد کرنے یا فوجی مداخلت کا اختیار حاصل ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل کے فیصلے سے عراق کی سیاسی حیثیت پر مثبت اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ساتویں باب کی برطرفی سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ  بغداد نے اپنے ہمسایہ ممالک کے تئیں معقول پالیسی اختیار کی ہے۔اقوام متحدہ کے اس اقدام کے بعد، عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے پابندیوں میں ڈھیل دینے کے لئے 15 رکنی کونسل کا شکریہ ادا کیا۔مالکی نے کہا کہ عراق اب آمرانہ حکومت کی احمقانہ پالیسیوں کے منفی نتایج سے آزاد ہو رہا ہے۔انہوں نے تمام ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کے لیے عراق کی نیک نیتی کا اظہار کیا اور کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے اقوام متحدہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عراق اور کویت کے درمیان تعلقات کا نیا باب وا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے پڑوسی اور برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کی نئی شروعات ہوگی اور یہ دیگر ممالک کے لئے بھی ایک مثال ہے کہ وہ اپنے تنازعات اور اختلافات پرامن طریقوں سے حل کریں۔......./169