مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے پشاور میں جامعہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور سانحہ کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی میڈیا سیل سے جاری بیان میں علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ حکومت و فوج انسانیت دشمن طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کے خوب دیکھنا چھوڑ دیں اور ان ناسوروں کے خلاف بھرپور عسکری کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز حکومت کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر مکمل طور پر پابندی کے عملی نفاذ کا اعلان کرے۔ گذشتہ 12 سال سے صرف مصنوعی پابندیوں نے ان کالعدم دہشت گرد گروہوں کو مزید طاقتور بنا دیا ہے، پشاور میں چند مٹھی بھر دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اپنے بیان میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے سوال اٹھایا کہ ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قاصر کیوں ہیں؟، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کن خفیہ طاقتوں کی ایماء پر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پشاور بم دھماکے نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے زخم کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ 25 برس قبل اسی مقام پر ہمارے ہر دل عزیز قائد کو امریکی ایجنٹوں نے حالت وضو میں خون میں غلطاں کیا تھا اور آج اسی مقام پر ان کے دو پوتوں میں سے سید علی مہدی الحسینی ولد سید علی حسینی شہید جبکہ سید علی رضا الحسینی ولد سید علی حسینی شدید زخمی ہیں۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کہ دہشت گردی کے یہ جرثومے پوری ریاست کو متاثر کرکے مکمل طور پر مفلوج کر دیں، ہم نومنتخب وفاقی حکومت خصوصاً وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی بقاء اور استحکام کی خاطر ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کریں، پوری قوم ان کا ساتھ دیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان پشاور، کوئٹہ اور کراچی سمیت پورے پاکستان میں بیگناہ شہریوں کے قتل عام پر سراپا احتجاج ہے، کراچی میں ایم کیو ایم کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی اور ان کے فرزند کے بہیمانہ قتل کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور پشاور کے اس عظیم سانحے کے خلاف تین روزہ یوم سوگ و احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔در این اثنا مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں علامہ ابوذر مہدوی، علامہ امتیاز کاظمی سیکرٹری جنرل لاہور، علامہ ناصر عباس فاطمی ضلعی رہنما، علامہ اظہر حسن، سید اسد عباس نقوی ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب نے پشاور میں ہونیوالی بدترین دہشتگردی کیخلاف صوبائی سیکرٹریٹ مسلم ٹاوُن لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ابوذر مہدوی نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان امن عامہ کے روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال سے آپ بخوبی واقف ہیں، دہشت گرد جن کا کوئی دین مذہب نہیں معصوم شہریوں کو لقمہ اجل بنا کر تاریخ میں اپنی سفاکی کے باب رقم کر رہے ہیں، آج پشاور میں نہتے نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا اور کراچی میں دہشت گردوں کا راج رہا۔انہوں نے کہا ملکی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات کا سیاست دانوں سمیت حکومتی اراکین کو ادراک نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے، ملک دشمنوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا، دہشت گردوں کو مذاکرات کی پیشکش کرکے اُن کی مزید حوصلہ افزائی کی گئی، یہ اس کا نتیجہ ہے کہ اُن پر حکومتی کمزوری اور پسپائی واضح ہوئی، مذاکرات کی دعوت دینے کے نتیجہ میں دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور حکومتی رٹ کمزور ہوگئی، جس کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کا اب وقت نہیں بلکہ اِن واقعات کے بعد ایسے سفاک درندوں کے خلاف موثر آپریشن اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا ۔علامہ ابوذر مہدوی کا مزید کہنا تھا کہ پشاور کے اس المناک سانحے میں ہمارے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) کے پوتے سید مہدی الحسینی جو 12 سال کے تھے، اس سانحہ میں شہید ہوئے، سانحہ پشاور کیخلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے، اِن تین دنوں میں پنجاب سمیت ملک بھر میں مظاہرے کئے جائیں گے۔ لاہور میں بروز اتوار شام 4 بجے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا جائے گا اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کیخلاف فوری اقدامات کا اعلان کرے، مذاکرات دہشت گردی کا حل نہیں ہیں، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، حکومتی رٹ قائم کرنے کیلئے دہشت گردوں کیخلاف تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں امریکی مفادات کے تحفظ کی بجائے ملکی مفادات کو مقدم رکھا جائے، امریکن بلاک سے نکلے بغیر ملکی ترقی اور سلامتی کو محفوظ بنانا ناممکن ہے۔ علامہ ابوذر مہدوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں، تحریک طالبان، لشکر جھنگوی کا سرپرست امریکن سفارت خانہ ہے، لہٰذا ملکی سلامتی کے اداروں سے مطالبہ ہے کہ اِن ملک دشمن سفارت کاروں کی کڑی نگرانی کی جائے، اِن کی نقل و حمل کو محدود کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قونصلیٹ ہی دہشت گردوں کی فنڈنگ کر رہا ہے، اس لئے سکیورٹی ادارے بغیر کسی دباؤ میں آئے ان کے خلاف کارروائی کریں اور امریکی قونصلیٹ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
21 جون 2013 - 19:30
News ID: 432394
علامہ محمد امین شہیدی نے پشاور میں جامعہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور سانحہ کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔