15 جون 2013 - 19:30
تقسیم چوک خالی کرانے کے لیے پولس نے کیا طاقت کا استعمال

ترک وزیر اعظم کی جانب سے استنبول میں غازی پارک اور تقسیم چوک خالی کرنے کے لیے مظاہرین کو دی گئی ڈیڈ لائن کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پولیس نے غازی پارک میں جمع مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

ابنا: پولیس غازی پارک میں مظاہرین کے خیموں کو اکھاڑ کر پھینک رہی ہے جبکہ انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔غور طلب ہے کہ مئی کے آخر میں استنبول میں غازی پارک کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ملک میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے جن کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر شہروں تک پھیل گیا تھا۔پارک کو مظاہرین سے خالی کرانے کے لیے پولیس کی نفری بھرپور طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔دوسری طرف مظاہرین اب قریبی گلیوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ پولیس کی کارروائی میں متعدد مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔دریں اثناء ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہزاروں افراد گلیوں میں نکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔اس کارروائی سے پہلے ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے انقرہ میں اپنی جماعت اے کے پارٹی کے ہزاروں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا اگر تقسیم سکوائر کو خالی نہیں کیا جاتا تو ہماری سکیورٹی فورسز جانتی ہیں کہ اسے کیسے خالی کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ غازی پارک میں رکنے کا اب کوئی جواز نہیں بنتا ہے کیونکہ معاملہ اب عدالت میں جا چکا ہے۔ ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا، ہم خدا کے سوا کسی سے کوئی ہدایت یا حکم نہیں لیتے۔ترک وزیراعظم کے جلسے کے بعد مظاہروں میں شامل ایک گروپ نے تقسیم چوک میں ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے جمعہ کو حکومت کا کہنا تھا کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے بعد اور اس بارے میں عدالت کا فیصلہ آنے تک غازی پارک کی تعمیر روکنے پر رضا مند ہو گئی ہے۔تقسیم یکجہتی گروپ استنبول کے غازی پارک کی تعمیر و تزئینِ نو کے منصوبے کا مخالف ہے اور تقسیم سکوائر میں جمع مظاہرین کے مطابق وہ اس وقت تک غازی پارک سے نہیں جائیں گے جب تک حکومت اس متنازع منصوبے کو واپس لینے کا اعلان نہیں کرتی۔ترکی میں پارک کی تعمیر کے خلاف 31 مئی سے شروع ہونے والے مظاہروں میں 5 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔......./169