14 جون 2013 - 19:30

وادی شگر میں خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی کے سربراہ نے کہا کہ میں متنبہ کرتا ہوں کو اس قوم اتنا مت آزماؤ، دیوار سے لگانے کی کوششوں کو بند کیا جائے، قوموں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے تو وہ اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔

ابنا: اسلامی تحریک اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی استقبالی کاروان کے ہمراہ وادی شگر پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق وادی شگر کے راستے کے مختلف مقامات پر علامہ ساجد نقوی نے استقبالیہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ سانحات پر بھی تعزیتیں پیش کی اور کہا کہ سانحہ کوہستان، سانحہ چلاس، سانحہ بابوسر اور سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء نہ صرف اس خطہ بلکہ پورے ملک کے عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ عوام نے اس سرزمین کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا رکھا ہے جو ملک کے دیگر علاقوں کے لئے بھی باعث تقلید ہے اور اس کا سہرا یہاں کے علمائے کرام کے سر ہے، جنہوں نے بلاتفریق مذہب و مسلک جزوی و فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر سینکڑوں مشترکات کی روشنی میں عوام کو باہم متحد کر رکھا ہے۔علامہ ساجد علی نقوی نے شگر میں اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جاری بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کرائے کے لوگوں کا کام ہے۔ ستم ظریفی کی انتہاء ہے کہ ملک میں فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ تشدد کو ابھارنے اور تشیع کو دیوار سے لگانے کے لئے ریاست کا سرمایہ صرف کیا گیا، حالانکہ اس طرز سے ملک کو چلانا کسی طور بھی دانشمندی نہیں۔ ہم نے ملک کی داخلی سلامتی اور اتحاد و وحدت کی خاطر ان تمام مصائب و مشکلات کو برداشت کیا اور ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تہذیب، شائستگی اور صبر و تحمل سے کام لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آنکھیں بند کرکے چلنے والے لوگ نہیں بلکہ ہماری حالات پر نظر ہے۔ ہمیں اس ملک کی سالمیت اور بقاء عزیز تر ہے، کیونکہ ہم یہاں مہمان نہیں بلکہ اس ملک کے حصہ دار ہیں، اس کی بنیادوں میں ہمارے آباء و اجداد کا خون شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حب الوطنی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ملک دشمنوں کے خلاف متحد ہوں، چنانچہ اسی تناظر میں ہم نے حکمت عملی کے ذریعہ تکفیری گروہوں کو ہر میدان میں شکست دی۔ان کا کہنا تھا کہ 20 سال ہوگئے کسی ایک شخص کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا، پاکستان کی ریاست کو اس کا جواب دینا ہوگا، میرے بچوں کو بسوں سے اتار کر شناخت کرکے مارا گیا، ایسے میں میری ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کھڑا ہوکر اپنی شناخت کرواؤں اور پاکستان میں رہنے کا طریقہ بتاؤں۔ انہوں نے کہا کہ تیار رہو میں اسلام آباد میں کھڑا ہوکر اپنا تعارف کرواؤں گا، ہم پاکستان میں حصہ دار ہیں کوئی مہمان نہیں ہیں، یہ کس طرح پاکستان کو چلایا جا رہا ہے میرے گواہ مارے گئے، میرے مدعی مارے گئے، میں متنبہ کرتا ہوں کو اس قوم اتنا مت آزماؤ، دیوار سے لگانے کی کوششوں کو بند کیا جائے، قوموں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے تو وہ اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ آئی ٹی پی کے سربراہ نے کہا کہ ہم کسی مسلح مقابلے اور ابھی ہم کسی بھی مسلح کارروائی کے حق میں نہیں، نہ ابھی موقع آیا ہے مگر جو لوگ یہ چاہتے ہیں انہیں آمادہ اور تیار رہنا چاہیئے اور تیار اس طرح رہنا چاہیئے کے وہ اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت قائم کریں اور بیداری پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اتحاد و وحدت کا بانی ہوں، مگر توہین صحابہ کی سزا میں ایک سیکنڈ کے اضافے کے لئے تیار نہیں، پنجاب کے وزیراعلٰی نے جب ایک گروہ سے وعدہ کیا تھا کہ 6 ماہ میں ناموس صحابہ بل پاس کرا دیں گے، ہم نے اس وقت بھی یہی کہا تھا، حکومت یہ کام تو نہیں کروا سکی مگر اس کے بدلے میں میرے خاندان کے لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔......./169