12 جون 2013 - 19:30
گوانتانامو میں امریکی پالیسیاں طبی اخلاقیات پر بد نما داغ

ایک امریکی ڈاکٹر اور دو وکلاء نے بدنام زمانہ گوانتانامو جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو کھانا کھانے کے لیے مجبور کرنے اور انہیں زبردستی کھانا کھلانے کے سلسلے کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی حکام کے اس عمل کو طبی اخلاقیات پر ایک بد نما داغ قرار دیا ہے۔

ابنا: بدھ کو اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، بوسٹن یونیورسٹی میں انسانی حقوق، صحت کے قوانین اور اخلاقیات کے شعبوں کے ماہرین نے امریکہ کے سب سے زیادہ مشہور میڈیکل جرنل،  نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ایک مختار شخص کو زبردستی کھانا کھلانے کے لئے مجبور کرنا طبی پریکٹس کے زمرے میں نہیں آتا ہے بلکہ یہ ایک جارحانہ حملہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ڈاکٹر کسی بھی مختار اور قادر شخص کو زبردستی کھانا نہیں کھلا سکتے، لیکن وہ بھوک ہڑتال کے لئے فائدہ مند طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں اور ہڑتالیوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے مدیر نے کیوبا میں امریکی فوجی اڈے میں واقع اس بدنام جیل میں امریکی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اپنے نظریات رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو مدعو کیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے. فی الحال جیل میں 166 قیدیوں میں سے 104 بھوک ہڑتال پر ہیں، اور ان میں سے کم از کم 43 کو پائپ کے ذریعے زبردستی کھانا کھلایا جا رہا ہے، پائپ کو ان کی ناک کے ذریعے ان کے پیٹ میں داخل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے امریکی فوجی حکام کے اس بیان کی مذمت کی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قیدیوں کو زندہ رکھنے کے لیے زبردستی کھانا کھلانا ایک ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ قید یا جیل کے حالات کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے بھوک ہڑتال کرنا ایک پرامن سیاسی قدم ہے، اور اس کا طبی عمل سے تعلق نہیں ہے۔......./169