ابنا: ترکي کے وزيراعظم رجب طيب اردوغان نے ايک بار پھر مظاہرين کو ليٹرے، اوباش اور شکست خوردہ عناصر قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ انکے صبر کا پيمانہ لبريز ہوسکتا ہے۔انہوں نے يہ دھمکي بھي دي ہے کہ مظاہرين کو اپنے اقدامات کي بھاري قيمت چکانا پڑے گي- وزيراعظم رجب طيب اردوغان کے دھمکي آميز لہجے سے ترک عوام ميں تشويش کي لہر ضرور پيدا ہوئي ليکن يہ دھمکي انہيں اپنے مطالبات سے پيچھے ہٹنے پر مجبور نہيں کرسکي - رجب طيب اردوغان کا کہنا ہے کہ جمہوريت اور آزادي بقول انکے تشدد اور مظاہروں سے نہيں بلکہ قانون کي پيروي سے حاصل ہوسکتي ہے- انکا يہ بيان بھي مظاہرين کو قائل نہيں کرسکا اور بظاہر احتجاجيوں نے ان کے استعفے کے مطالبے کو اور بھي شدت کے ساتھ دہرانا شروع کرديا ہے۔مظاہروں کا انتظام کرنے والي تنظيم نے کہا ہے کہ ملک ميں آئندہ انتخابات کے انعقاد تک مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاري رہے گا۔ ترکي ميں دوہزار چودہ ميں بلدياتي انتخابات ہونے والے ہيں جبکہ دوہزار پندرہ ميں پارليماني انتخابات کرائے جانے کي توقع ہے۔ترک وزيراعظم کو اس وقت اندرون ملک مخالفت کے علاوہ عالمي سطح پر بھي تنقيد کا سامنا ہے۔يورپي يونين کےامور خارجہ کي انچارج کيتھرين ايشٹن نے ترکي کے سياسي بحران کو فوري طور پر حل کئےجانے کي ضرورت پر زور ديا ہے۔يورپي يونين حاليہ مظاہروں کو کنٹرول کرنے ميں ناکامي کے باعث کئي بار ترکي پر کڑي نکتہ چيني کرچکي ہے۔ترکي کے نائب وزيراعظم بلند آرينج نے، جنہوں نے اس سےپہلے مظاہرين کے خلاف پوليس کے تشدد پر عذرخواہي کرتے ہوئے کافي حدتک وزيراعظم سے اپنا موقف الگ کرليا تھا اب اشارتا يہ بات کہي ہے کہ عوام کي جانب سے سياستدانوں کي تنبيہ ضروري ہوگئي تھي۔دوسري جانب ترکي سے ملنے والي خبروں کے مطابق دارالحکومت انقرہ ميں ايک بار پھر پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں ہوئي ہيں- پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں اس وقت شروع ہوئيں جب پوليس نے مظاہرين کو منشتر کرنے کے لئے آنسو گيس کي شيلنگ کي اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کيا- پوليس نے مظاہرين کے خلاف پاني کي توپوں کا بھي استعمال کيا جس کے بعد مظاہرين نے پوليس پر پتھراؤ اور پيٹرول بم پھينکنا شروع کئے- يہ سلسلہ کافي دير تک جاري رہا- دو مظاہرين کے زخمي ہونے کي بھي خبر ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اتوار کي رات اور پير کے دن تعداد ميں دارالحکومت انقرہ اور استبول کے مرکزي علاقوں ميں لوگ سڑکوں پر آئے اور وزيراعظم کے استعفے کا مطالبہ دہرايا- مظاہرين کي بڑي تعداد استبنول کے تقسيم اسکوائر پر بدستور دھرنا ديئے بيٹھي ہے اور انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا ختم نہيں کريں گے۔ يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہور رہے ہيں جب وزيراعظم اردوغان نے اتوار کي رات انقرہ ميں اپنے حاميوں کے اجمتاع سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرين کو شرپسند اور لٹيرا قرار ديا ہے- انہوں نے دھمکي دي کہ سرکاري اداروں پر حملے اور گاڑيوں کو نذر آتش کرنے والوں کے ساتھ سختي سے نمٹا جائے گا- انہوں نے اسي کے ساتھ اپنے حاميوں سے حکومت کے حق ميں مظاہرے کرنے اور ريلياں نکالنے کي اپيل کي - - واضح رہے کہ حکومت کي جانب سے استبول کے تاريخي پارک کو ختم کرکے شاپنگ مال تعمير کرنے کے فيصلے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے وزيراعظم اردوغان کي داخلہ اور خارجہ پاليسيوں کے خلاف ملک گير تحريک ميں تبديل ہوگئے ہيں اور مظاہرين وزيراعظم کے استعفے کا بھي مطالبہ کر رہے ہيں......../169
9 جون 2013 - 19:30
News ID: 428364
ترکي ميں اردوغان حکومت کے خلاف عوام کے ملک گير مظاہرے جاري ہيں - رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے سخت انتباہ کے باوجود ہزاروں کي تعداد ميں مظاہرين استنبول کے تقسيم اسکوائر پر موجود ہيں- اسي کے ساتھ دارالحکومت انقرہ سميت ملک کے ديگر شہروں ميں بھي عوام کي احتجاجي ريليوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے۔