ابنا: اقوام متحدہ کے ادارہ پناہگزيناں نے ميانمار کي حکومت سے اپيل کي ہے کہ وہ بے گھر ہونے والوں کي واپسي کے لئے حالات سازگار بنائے-اقوام متحدہ کے ہائي کمشنر برائے پناہگزيناں نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ اس سلسلے ميں حکومت ميانمار کي مدد کرنے کے لئے تيار ہے-انکا کہنا تھا کہ سلامتي کے خطرات کي وجہ سے بہت سے روہنگيا مسلمان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہيں- واضح رہے کہ ميانمار کي صوبہ راخين ميں گزشتہ ايک برس سے مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹ اور فوج حملے کرتي رہي ہے-جون کے مہينے ميں ہونے والے ايسے ہي حملوں کے بعد پچھتر ہزار مسلمان بے گھر ہوئے تھے-اکتوبر کے مہينے ميں ايک بار پھر مسلمانوں کو انتہا پسندوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس ميں چھتيس ہزار مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ نے پر مجبور ہوگئے تھے-ميانمار کي ساٹھ ملين کي آبادی ميں مسلمانوں کا تناسب چھے في صد ہے تاہم حکومت ميانمار مسلمانوں کو اس ملک کا شہري تسليم نہيں کرتي-اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے اب تک ميانمار ميں مسلمانوں کے خلاف جاري تشدد پر خاموشي اختيار کر رکھي ہے-......./169
8 جون 2013 - 19:30
News ID: 427860
اقوام متحدہ کے ہائي کمشنر برائے پناہگزيناں نے کہا ہے کہ ميانمار ميں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں کے نتيجے ميں چودہ لاکھ روہنگيا مسلمان بے گھر ہوئے ہيں-