8 جون 2013 - 19:30
شام ميں چھے سو يورپي دہشتگردوں کي موجودگي کا اعتراف

فرانس کے وزير خارجہ نے اعتراف کيا ہے کہ شام ميں يورپي ملکوں کے چھے سو دہشتگرد ، شام کي حکومت کے خلاف جنگ ميں مصروف ہيں -

ابنا: اس سے پہلے لندن کے انٹرنيشنل اسٹڈي سينٹر نے بھي ايک رپورٹ ميں اعلان کيا تھا کہ شام ميں کئي ہزار غير ملکي انتہا پسند دمشق حکومت کے خلاف بر سرپيکار ہيں جن ميں  مختلف يورپي ملکوں کے چھے سو افراد بھي شامل ہيں - رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ شام ميں دہشتگردوں کے ساتھ مل کے دمشق حکومت کے خلاف جنگ ميں مصروف يورپي انتہا پسندوں کي اکثريت کا تعلق آسٹريا، اسپين، سوئيڈن، جرمني اور برطانيہ سے ہے –رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ يورپي رہنماؤں کو تشويش اس بات کي لاحق ہے کہ يورپي انتہا پسند جو شام ميں دہشتگردانہ کاروائيوں ميں مصروف ہيں، واپس اپنے ملکوں ميں آئيں گے تو کيا ہوگا ؟ کيونکہ ان کے منھ کو خون لگ چکا ہے اور واپس آکے وہ يورپ ميں بھي انتہا پسندي اور دہشتگردي ميں مصروف ہوسکتے ہيں- يہ تشويش شام کے بحران کے تعلق سے يورپي يونين کے دوہرے معياروں کي نشاندہي کرتي ہے - يورپي يونين نے حال ہي ميں شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے لئے اسلحے کي سپلائي پر لگي پابندي ختم کردي ہے اور شام ميں دمشق حکومت کے خلاف برسرپيکار دہشتگردوں کے لئے اسلحہ جاتي اور مالي امداد کا راستہ کھول ديا ہے –بنابريں ايک طرف تو يورپي يونين شام کي قانوني حکومت کے خلاف جنگ ميں مصروف انتہا پسند اور دہشتگرد گروہوں کي حمايت کرتي ہے اور دوسري طرف انہيں دہشتگردوں کو واپسي کي صورت ميں يورپ کي سلامتي کے لئے خطرہ قرار ديتي ہے – يورپ  کي يہ تشويش اس بات کو بھي  ظاہر کرتي ہے کہ مغرب والوں نے جو آگ شام ميں لگائي ہے وہ اب انہيں بھي دامنگير ہونے کو ہے -يورپي يونين کے رکن دو بڑے ممالک برطانيہ اور فرانس دمشق حکومت کے مخالفين کو مسلح کرنے پر زيادہ زور ديتے ہيں - جبکہ ان گروہوں ميں سلفي رجحان رکھنے والے کئي سو يورپي باشندے بھي موجود ہيں جس کے پيش نظر کہا جاسکتا ہے کہ شام ميں يورپ کے ان باشندوں  کي جو ذہني اور فوجي تربيت ہورہي ہے اس کے ساتھ جب وہ اپنے ملکوں ميں واپس پہنچيں گے تو يقينا ان کي ذات سے کافي خطرات پيدا ہوسکتے ہيں –اس نقطہ نگاہ سے يورپي ليڈروں کي تشويش بجا ہے ليکن انہيں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر وہ دنيا کے دوسرے ملکوں کے لئے بدامني پيدا کريں گے اور وہاں دہشتگرد بھيجيں گے تو خود کو بھي اس کے اثرات سے محفوظ نہيں رکھ سکيں گے - ......./169