24 مئی 2013 - 19:30
غزہ کی صورتحال پر امن کارکنوں کا اظہار تشویش

امريکہ کي حمايت اور گرين سنگل کے ذريعے غزہ کے محاصرے اور مسلسل جارحيت جيسے اسر ائيل کے غير انساني اقدامات نے اس علاقے کي صورتحال کو مزيد پيچيدہ اوربحراني بناديا ہے۔

ابنا: اسرائيل کے غيرانساني اقدامات کے تسلسل کے باعث پيدا ہونے الميہ نے ساري دنيا کي توجہ اپني طرف مبذول کرلي ہے اور عالمي ادارے مسلسل غزہ کي صورتحال کے بارے ميں اپني تشويش کا اظہار کر رہے ہيں۔
عالم امن کارکنوں نے فلسطينيوں کے حلاف اسرائيل کے وحشيانہ اور غير انساني اقدامات کے المناک نتائج کے بار ے ميں خبردار کرتے ہوئے فلسطينيوں کے ساتھ اظہار يکجہتي کے لئے  ايک بار پھر غزہ پہچنا شروع کرديا ہے-
غزہ کے مکينوں کي امداد اور محاصرہ توڑنے کي غرض سے عالمي کوششوں ميں ايک بار پھر تيزي آئي ہے  اور عالمي امن کارکن فلسطينوں کے مصائب و آلام کو کم کرنے کے لئے سرگرم ہوگئے ہيں۔
فلسطيني عوام کي منتخـب کردہ حکومت کے مرکز اطلاعات کے مطابق مئي دوہزار تيرہ سے اب تک دوسو تينتالس امن کارکنون پر مشتمل گيارہ غير ملکي وفودغزہ کا دورہ کرچکے ہيں جن ميں يورپ ، ايشيا اور عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔
دوسري جانب اطالوي امن کارکنوں نے کہا ہے کہ غزہ کے مظلوم فلسطينيوں تک امداد پہنچانے ميں اسرائيل سب سے بڑي رکاوٹ بنا ہوا ہے-  فريڈم فلوٹيلا کے کوآرڈ نيٹر مائيکل بورجا نے کہا ہے کہ کسي بھي امدادي بحري جہاز کو غزہ جانے کي اجازت نہيں دے رہا۔
فريڈم فلوٹيلا کے ترجمان جرمانو مونٹي نے بھي اسرائيل کو ايک غاصب حکومت قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ امريکہ کي بے دريغ حمايت کي وجہ سے اسرائيل کو غير انساني اقدامات کا سلسلہ جاري رکھنے کي کھلي چھوٹ ملي ہوئي ہے۔
عالمي رائے عامہ کي جانب سے عزہ کے غير انساني محاصرے کے خلاف آنے والے شديد ردعمل  اور مظاہروں کے بعد ايک بار پھر عالمي سطح پر عوامي کوشش تيز ہوگئي ہيں   جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمي رائے عامہ ميں اسرائيل کے وحشيانہ اقدامات کے خلاف نفرت اور غم و غصے ميں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

.......

/169