20 مئی 2013 - 19:30
بحران شام کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر ایران کی پوری کوشش

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان قومی گفتگو کو شام کے بحران کی راہ حل قرار دیا ہے۔

ابنا: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج ایرانی اور غیرملکی نامہ نگاروں کے ساتھ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تہران میں انتیس مئی کو بحران شام کے بارے میں تہران میں منعقد ہونے والے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس اسلامی جمہوریہ ایران کی کوشش ہے کہ جو شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ بحران شام کی سیاسی راہ حل علاقے میں امن و استحکام میں مدد دے گی اور اگر سیاسی راہ کا انتخاب نہ کیا گيا تو علاقے میں امن قائم نہیں ہو گا، اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں امن و استحکام سیاسی اور پرامن راہ حل کے ذریعے ہی حاصل ہو گا۔سید عباس عراقچی نے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی استنبول میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کے بارے میں کہا کہ اس بات سے اتفاق کیا گيا ہے کہ رابطے جاری رکھے جائيں گے اور آئندہ مذاکرات کے بارے میں فیصلہ آئندہ رابطوں میں کیا جائے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جرمن وزیر خارجہ کے اس بیان کے بارے میں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ امر جرمنی کے لیے ناقابل قبول ہے، ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے شروع سے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں اپنے ٹھوس موقف کا اعلان کر رکھا ہے اور اس بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کا فتوی بھی موجود ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲