10 مئی 2013 - 19:30
دمشق میں روضہ حضرت زینب(ع) کی حفاظت کے لیے خصوصی بٹالین کی تعیناتی

دمشق میں روضہ حضرت زینب(ع) کی حفاظت کے لیے خصوصی بٹالین کی تعیناتی/ فیصل مقداد: بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہونگے/شام میں جنگ کا مقصد قومی اتحاد کو ختم کرنا/ شام میں ایک سو پچاس دہشتگرد سرینڈر/ شام ميں عوام کے مظاہرے، حکومت اور فوج کي بھر پور حمايت کا اعلان/حسن نصر اللہ:شام پر اسرائیلی حملے کا مقصد اس ملک کو فلسطینی مسئلے سے خارج کرنا.

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ شام میں دوبرسوں سے بعض امریکہ اور اسکے عرب و مغربی آلہ کاروں کے حمایت یافتہ دہشتگرد سرگرم عمل ہیں اور بے گناہ عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شامی فوج کافی حد تک دہشتگردانہ کاروائیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔اس رپورٹ میں شام کے حالات حاضرہ کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے:دمشق میں روضہ حضرت زینب(ع) کی حفاظت کے لیے خصوصی بٹالین کی تعیناتیشامی فوج کی خصوصی بٹالین نے دمشق کے مضافاتی علاقے میں واقع روضہ حضرت زینب (س) کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔شام میں سرگرم دھشتگردوں کی طرف روضہ حضرت زینب (س) پر حملہ کرنے کی دھمکیوں کے بعد شامی فوج کی ایک خصوصی بٹالین کو روضہ کی حفاظت پر تعینات کیا گیا ہے۔  فیصل مقداد: بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہونگے/ ہمارا ردعمل اسرائیل کیلئے تکلیف دہشام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اگر کوئی نیا حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا فوری جواب دیا جائے گا۔ شام نے امریکہ کی جانب سے صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ جمعہ کو عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے کا جواب دینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، اگر اب اسرائیل کی جانب سے کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا بروقت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کے کسی نئے حملے کا فوری جواب دینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور اس کے لیے مزید ہدایات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہمارا ردعمل بہت سخت اور اسرائیل کے لیے تکلیف دہ ہوگا۔درایں اثناء شامی وزارت خارجہ نے امریکہ اور روس کے درمیان بحران کے حل کے لیے گذشتہ سال جنیوا میں طے پانے والے چھ نکاتی معاہدے کی روشنی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے پر اتفاق کا خیرمقدم کیا، لیکن اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد تنازعے کے حل کے لیے اقتدار چھوڑ دیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار کا فیصلہ کرنا شامی عوام کا کام ہے۔ بیان میں روس کے شام سے متعلق موقف پر اس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے۔شام کے نائب وزیر خارجہ نے عالمی برادری کی جانب سے دباو کے بعد ملک میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی ٹیم کے خیر مقدم کا بھی اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بان کی مون کے مقرر کردہ وفد کا استقبال کرنے کو تیار ہیں اور اس کے لیے ہم ہمیشہ تیار رہے ہیں، تاکہ وہ آئیں اور خان الاصل میں جو کچھ رونما ہوا تھا، اس کی تحقیقات کریں۔ وہ شمالی شہر حلب کے نزدیک واقع گاوں کا حوالے دے رہے تھے، جہاں شامی باغی جنگجووں نے کیمیائی ہتھیار استعمال کئے تھے۔ اس واقعے میں تیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال صدر بشارالاسد کے لیے ایک ریڈ لائن ہے۔شام میں جنگ کا مقصد قومی اتحاد کو ختم کرناشام کے وزیر اعظم  وائل الحلقی نے ملک کے موجودہ بحران کو شام کے دشمنوں کی ایک ایسی ہمہ گیر جنگ قرار دیا ہے جس کا مقصد شام کے عوام کے قومی اتحاد کو ختم کرنا ہے۔مطابق وائل الحلقی نے کہا ہےکہ ان کے ملک پر دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے ہمہ گیر سیاسی ، فوجی ، اقتصادی ، تشہیراتی اور ثقافتی حملے کۓ جارہے ہیں جن کا مقصد اس ملک کے قومی اتحاد اور سماجی سیٹ اپ کو نقصان پہنچانا ہے۔وائل الحلقی نے خطے میں صیہونی حکومت اور امریکہ  کی سازشوں کے مقابلے میں کی جانے والی استقامت کی حمایت کے سلسلے میں شام کے کلیدی کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ دشمنوں نے شام کی فوج اور اس ملک کے قومی اقتصاد ، شام کی حکومت کی سرنگونی اور اس ملک کو صیہونی دشمن کے خلاف استقامت سے خارج کرنے کے مقصد سے شام میں جنگ شروع کی ہے۔شام میں ایک سو پچاس دھشتگرد سرینڈرشام میں سرگرام مسلح افراد میں سے ایک سو پچاس افراد نے، کہ جنھوں نے حالیہ مہینوں کے درمیان شام میں دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دی ہیں،  ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو اس ملک کے دارالحکومت دمشق اور اس کے مضافات میں فوجیوں کے سپرد کردیا ہے۔  شام کی فوج نے دمشق کے مضافات میں واقع حسینیہ کے علاقے میں موجود تمام مسلح دہشتگردوں کو ہلاک کر کے اس علاقے کو ان کے وجود سے پاک کردیا ہے۔شام کی فوج نے حلب شہر کے مضافات میں واقع الخالدیہ کے علاقے میں بھی متعدد مسلح دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔شام ميں عوامی مظاہرے، حکومت اور فوج کي بھر پور حمايت کا اعلانعوام نے کہا کہ دشمن عسکري اقدامات اور دہشت گردوں کي امداد کے ذريعے حکومت دمشق کو اپنے ناجائز مطالبات کے سامنے جھکا نہيں سکتے کيونکہ علاقے ميں اسلامي مزاحمتي محاذ کے محور کي محافظ ہونے کي حيثيت سے دمشق حکومت  داخلي و خارجي تمام دشمنوں کا جواب دينے پر قادر ہےـصدر بشار اسد نے بھي اسرائيلي حملوں کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام کي فوج کے پاس اسرائيل کا سامنا کرنے کي صلاحيت ہےـ انہوں نے کہا کہ فوج اسرائيل کو ناقابل فراموش سبق سکھانے کے لئے تيار ہےـ انہوں نے کہاکہ اسرائيل کا ہر گوشہ ہمارے طاقتور ميزائلوں کي زد ميں ہےـصدر بشار اسد نے کہا کہ حاليہ حملے سے  شام کے بحران ميں صيہوني حکومت اور اس کے حاميوں کا ملوث ہونا اور بھي آشکارا ہو گيا ہے-حسن نصر اللہ:شام پر اسرائیلی حملے کا مقصد اس ملک کو فلسطینی مسئلے سے الگ کرنا ہے شام میں دوبرسوں سے بعض امریکہ اور اسکے عرب و مغربی آلہ کاروں کے حمایت یافتہ دہشتگرد سرگرم عمل ہیں اور بے گناہ عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔ لبنان بھی شام کے بحران سے متاثر ہوا ہے اور سعودی عرب اور اسکی پٹھو پارٹیاں لبنان میں فتنے پھیلانے کے درپے ہیں اور لبنان کے شمالی علاقوں میں مسائل کھڑی کررہی ہیں تاہم حکومت کی تدبیر سے یہ فنتے ناکام ہوچکے ہیں۔ عالم عرب کی محبوب ترین شخصیت سید حسن نصراللہ نے اس بات کی یاد دہانی کرائي کہ صیہونی حکومت علاقے میں خاص اھداف رکھتی ہے اور انہیں حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان اھداف میں ایک شام کو مسئلہ فلسطین  سے خارج کرنا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ شام پر حالیہ صیہونی حملے قدس کی غاصب حکومت کے خلاف جاری استقامت اور اس میں شریک فرنٹ لائن کے ملکوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ شام کی حکومت کی حمایت کرتی رہے گي اور اپنے ہتھیاروں سے بھی دستبردار نہیں ہوگي نیز ماضی سے زیادہ شد ومد سے استقامت جاری رکھے گي۔ ..............242