8 مئی 2013 - 19:30
دنیا کے بیشتر مسلمان خودکش دہشت گردوں کی مذمّت کرتے ہیں

پندرہ اپریل کو بوسٹن میں ہوئی دہشت گردی سے قطع نظر امریکہ کو مسلمان مخالف رجحان نے اپنی لپیٹ میں نہیں لیا۔ پیو ریسرچ سنٹر نے یہ اندازہ لگایا ہے، جو ہمیشہ ہی بین العبیدہ جاتی تحقیق پہ خصوصی توجہ دیتا ہے۔

ابنا: دوسرے ملکوں کی نسبت امریکہ کے بہت کم مسلمان اسلامی انتہا پرستی کے حق میں ہیں۔ آراء شماری کے مطابق 81% امریکی مسلمانوں نے کہا ہے کہ ایسے افعال کو حق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سات فیصد سمجھتے ہین کہ اسلام کے تحفظ کی خاطر حملوں کو درست سمجھا جا سکتا ہے۔ صرف ایک فیصد نے کہا کہ مخصوص حالات میں دہشت گردی کا عمل جائز ہو سکتا ہے۔کلی طور پہ مسلمانوں کی اکثریت نے دہشت گردانہ واقعات کو رد کیا ہے۔ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے زیادہ مسلمان مصر میں ہیں یعنی 26% یا پھر افغانستان میں 39%۔روس کے نوّے فیصد مسلمان اس حق میں ہیں کہ انتہا پسند مسلمانوں کو خودکش دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ صرف چار فیصد خاص حالات میں اس کی حمایت کرتے ہیں۔دنیا میں مزاج میں تبدیلی کا عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھ آ رہی ہے کہ اسلام اور انتہا پسندی کا آپس میں کوئی بھی ناطہ نہیں ہے، ایک معروف اسلامی محقق اور عرب ملکوں میں عقائد بارے مسائل کے سلسلے میں امریکی کانگریس کے مشیر ڈاکٹر ولید فاریز نے کہا:" تازہ تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ امریکی یہ جاننے لگے ہیں کہ اسلام ایک مذہب ہے۔ امریکہ کی مسلمان برادری امریکی شہریوں پر مشتمل ہے۔ جہادی، سلفی، بنیاد پرست اور اسی طرح کے دیگر گروہ نظریاتی اور سیاسی تحریکیں ہیں اور انہی تحریکوں سے وابستہ لوگ دہشت گردی کی ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں۔ اس میں خود مذہب یا مذہب پہ کاربند لوگوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔"جہاں جہاں یہ آراء شماری کی گئی ان ملکوں کے مسلمانوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ملکوں میں انتہا پسندی سے متعلق تشویش ہے۔ ایسے مسلمانوں میں مصر، تیونس، عراق اور انڈونیشیا کے دوتہائی یا اس سے زیادہ مسلمان شامل ہیں۔مشرق وسطٰی کے مسلمان اس وقت مستقبل میں امن سے متعلق مشوش ہیں، ڈاکٹر فاریز کا کہنا ہے۔ ان کی کتاب "آمدہ انقلاب: مشرق وسطٰی میں آزادی کی خاطر لڑائی" امریکہ اور عرب دنیا میں مقبول ہے۔"مشرق وسطٰی میں اس وقت ایک اہم لڑائی لڑی جا رہی ہے، جس پر ہمارے کرہ ارض کے مستقبل کا انحصار ہے۔ ایک جانب اس میں جہادی لڑ رہے ہیں جن کو فی الحال کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے۔ دوسری جانب ہم بیروت، تہران، کابل اور قاہرہ یعنی پورے خطے کے اعتدال پسند مسلمانوں میں فعالیت کے اشارے پا رہے ہیں، جو جمہوری قوتوں اور معتدل اسلام کے فروغ پانے کے اشارے ہیں۔""دنیا بھر کے مسلمان: مذہب، سیاست اور معاشرہ" نام کی یہ تحقیق روس سمیت 39 ملکوں میں دو سال تک کی گئی ۔ 157 صفحات کی اس رپورٹ میں خود کو مسلمان سمجھنے والے 38ہزار سے زائد لوگوں سے انٹرویو کیے گئے ہیں۔

.....

/169