7 مئی 2013 - 19:30

ایران کےوزيرخارجہ علی اکبر صالحی ، علاقے میں اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے اردن کے بعد دمشق پہنچے جہاں اس ملک کےصدر بشار اسد سے ملاقات اورگفتگو کی اور علاقے اور شام کےبحران پر تتادلہ خیال کیا۔

ابنا: علی اکبرصالحی نے دمشق میں بشار اسد سےملاقات میں شام میں قیام امن اور امن واستحکام کی بحالی کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی اورعالمی کوششوں کی جانب اشارہ کیا۔
علی اکبرصالحی نے شام کےبحران کا واحد راہ حل شامی حکومت اور شامی اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کوقرار دیا۔
اس موقع پر صدر بشار اسد نے شام کےخلاف ملک کےاندر اورباہر سےہونے والی تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے پر تاکید کی ۔
دمشق میں ایران کے وزيرخارجہ نے کچہ گھنٹوں کی ملاقات اور اس سےقبل اردنی حکام سے صلاح ومشورے کواہمیت کاحامل قرار دیا۔
ایران ناوابستہ تحریک کا رکن  ہونے کی حیثیت سے علاقے کے امن واستحکام پر بھر پورتوجہ دیتا ہے۔
دوسرے یہ کہ ایران بحران شام کے حل کےلئے ہر اقدام سے پہلے، سیاسی طریقے سے بحران کےحل پرتاکید کرتا ہے کیونکہ بحران شام کےحل میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت پورے علاقے کودرپیش بحران کےکنٹرول سے باہر نکل جانےکاسبب بنےگا۔ اسی وجہ سے ایران کسی ملک پرجارحیت اور طاقت کےاستعمال کو تسلیم کرنے کےلئے تیار نہيں ہے اور اس کاخیال ہے کہ جو لوگ اس طرح کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں وہ اپنے ناجائزمفادات کےحصول کی فکرمیں ہیں۔
واضح ہے کہ یہ عمل عالمی امن واستحکام کوخطرے میں ڈال دےگا۔
شام میں مغرب کی حمایت سے پیدا کیا جانے والا بحران اب کافی پھیل چکا ہے ۔ اس حمایت میں اب دہشگرد گروہوں کے لئے  جدید ترین اور پیچیدہ ہتھیار بھیجنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ اس وقت مشرق وسطی کو براہ راست بدامنی اورخطرات کا سامنا ہے۔
اس وقت شام میں دو واضح گروہ کردار ادا کررہے ہیں ایک گروہ وہ ہے جوحکومت سےمذاکرات چاہتا ہے اور تشدد پسندی پر سیاسی راہ حل کوترجیح دیتا ہے اور دوسرا گروہ النصرہ جیسا انتہاپسند اور تشدد پسند ہے جوالقاعدہ کا اتحادی ہے اور اس کےمقاصد پوری طرح واضح ہيں۔ گذشتہ چند مہینوں کے دوران بعض ملکوں کی حمایت سے ان گروہوں کے تشدد پسندانہ اقدامات اسلامی مذاہب بالخصوص شیعہ سنی کےدرمیان تفرقہ پھیلانے میں شدت لانے کےلئے استعمال ہوناشروع ہوگئے ہیں۔
بنابرایں یہ کہاجاسکتا ہے کہ شام میں مداخلت کےنتائج ناقابل پیشگوئي ہوسکتے ہیں جس کےلئے امریکہ اسرائیل اور ترکی سمیت بعض عرب ممالک نے شام مخالف اقدامات شروع کردیئے ہيں اور شام پر صیہونی حکومت کافضائی حملہ اسی تناظر میں انجام پایا ہے۔
اگرچہ ایران کےوزيرخارجہ علی اکبرصالحی نے شام کےصدر بشاراسد سےملاقات کےبعد پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی استقامت اوران کی جانب سے حکومت کی حمایت کےباعث شام بیرونی دباؤ اور اندرون ملک مسلح گروہوں کےسامنے ڈٹا ہوا ہے لیکن اس کےباوجود شام میں سیاسی خلاء علاقے کےممالک کےلئے برے نتائج کاحامل ہوگا۔ ناوابستہ تحریک نےبھی ایک بیان میں شام کےخلاف صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدام کی مذمت کی۔ یہ بیان جو نیویارک میں ناوابستہ تحریک کے دفتر سے جاری ہوا ہے اس ميں شام کےخلاف صیہونی حکومت کےحالیہ اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی پامالی ، شام کےاقتداراعلی کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے اہداف وقوانین کی مخالفت قراردیاگیا اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سےمطالبہ کیاگیا کہ صیہونی حکومت سے اس کی جارحیت اوراس کےنتائج پر جواب طلب کرے جوعالمی امن وسلامتی کوخطرے میں ڈالے ہوئے ہے۔ کیونکہ دمشق پر صیہونی حکومت کے حملے کےبعد نئي صورت حال پیدا ہوئي ہے اورشام نےاعلان کیا ہے کہ وہ ہرطرح کی جارحیت کاجواب دینے کےلئے تیار ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اورماسکو، ایک بارپھر شام کےبحران کےحل کےلئے بین الاقوامی کانفرنس کےانعقاد کےبارے میں سوچ رہے ہيں ۔

.....

/169