ابنا: شام میں مقامات مقدسہ کی امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں توہین کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام گورنر ہاؤس سے لاہور پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں عورتوں، بچوں، جوانوں بزرگوں اور اہلسنت اکابرین نے بھی شرکت کی۔ احتجاجی ریلی پریس کلب کے سامنے پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جلیل القدر صحابی رسول حضرت حجر بن عدی (رض) کے مزار اقدس کے انہدام اور نبش قبر جیسے گھناؤنے اور انسانیت سوز سانحے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، دہشت گرد تکفیری گروہوں نے اس مذموم عمل سے ثابت کردیا کہ ان کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انسانیت سے۔
انہوں نے کہا کہ وہابی تکفیری قوتیں دنیا بھر میں مسلمان ممالک کو کمزور بنانے کے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے مکہ ومدینہ میں وہابی فکر کے حامل افراد نے اہلبیت اطہار علیہ السلام اور اصحاب عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات مسمار کرکے اس ناروا فعل کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا میں ایک منظم انداز میں پیغمبراسلام (ص) اور ان کے اہلبیت عظام (ع) اور جاں نثار صحابہ کرام (رض) کی توہین کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شام میں رونما ہونے والے واقعہ کی کڑیاں اسی عالمی سازش سے ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر انسانی سانحے پر عالم اسلام کی خاموشی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اسلامی کانفرنس، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مجرمانہ سکوت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہوں کی خاموشی امت مسلمہ کے اذہان میں طرح طرح کے سوالات اٹھا رہی ہے۔ آج جو کچھ شام میں ہو رہا ہے وہ امریکہ اور اسرائیل کے ایما پر کیا جا رہا ہے، شام میں امریکی ایجنڈے پر کام کرنے والے بعض مسلمان ممالک بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ہم عالمی اداروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد شام میں ہونے والے اس سانحے کا نوٹس لیں۔ عالمی ادارے شام میں مزارات کے تقدس اور امن و امان کے قیام میں کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ امریکہ کا بغل بچہ بننے اور امریکی مفادات کی محافظ بننے کی بجائے اپنے فرائض انجام دے اور شام سے امریکی، اسرائیلی اور وہابی مداخلت ختم کرکے اپنے چارٹرڈ پر عمل کروائے۔ مقررین نے کہا کہ حضرت حجر بن عدی (رض) کے جسد مبارک کو بازیاب کروا کر مزار کی تعمیر نو کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سانحہ کا نوٹس لے اور احتجاج کے طور پر بدی کے محور امریکی سفارتخانوں کو بند کیا جائے، اگر حکومت نے مجرمانہ خاموشی جاری رکھی تو پاکستان میں ایک بار پھر پرامن دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ شام میں جا کر لڑنے والے پاکستانی غداران وطن کو واپس لائے اور انہیں یہاں عبرت ناک سزائیں دے۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے خلاف نعرے درج تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
انہوں نے کہا کہ وہابی تکفیری قوتیں دنیا بھر میں مسلمان ممالک کو کمزور بنانے کے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے مکہ ومدینہ میں وہابی فکر کے حامل افراد نے اہلبیت اطہار علیہ السلام اور اصحاب عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات مسمار کرکے اس ناروا فعل کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا میں ایک منظم انداز میں پیغمبراسلام (ص) اور ان کے اہلبیت عظام (ع) اور جاں نثار صحابہ کرام (رض) کی توہین کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شام میں رونما ہونے والے واقعہ کی کڑیاں اسی عالمی سازش سے ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر انسانی سانحے پر عالم اسلام کی خاموشی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اسلامی کانفرنس، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مجرمانہ سکوت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہوں کی خاموشی امت مسلمہ کے اذہان میں طرح طرح کے سوالات اٹھا رہی ہے۔ آج جو کچھ شام میں ہو رہا ہے وہ امریکہ اور اسرائیل کے ایما پر کیا جا رہا ہے، شام میں امریکی ایجنڈے پر کام کرنے والے بعض مسلمان ممالک بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ہم عالمی اداروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد شام میں ہونے والے اس سانحے کا نوٹس لیں۔ عالمی ادارے شام میں مزارات کے تقدس اور امن و امان کے قیام میں کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ امریکہ کا بغل بچہ بننے اور امریکی مفادات کی محافظ بننے کی بجائے اپنے فرائض انجام دے اور شام سے امریکی، اسرائیلی اور وہابی مداخلت ختم کرکے اپنے چارٹرڈ پر عمل کروائے۔ مقررین نے کہا کہ حضرت حجر بن عدی (رض) کے جسد مبارک کو بازیاب کروا کر مزار کی تعمیر نو کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سانحہ کا نوٹس لے اور احتجاج کے طور پر بدی کے محور امریکی سفارتخانوں کو بند کیا جائے، اگر حکومت نے مجرمانہ خاموشی جاری رکھی تو پاکستان میں ایک بار پھر پرامن دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ شام میں جا کر لڑنے والے پاکستانی غداران وطن کو واپس لائے اور انہیں یہاں عبرت ناک سزائیں دے۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے خلاف نعرے درج تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲