اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری دھشتگردوں کے شام میں صحابی رسول جناب حجر بن عدی کے مزار پر شرمناک حملے اور نبش قبر کے سلسلے میں ایک چشم دید گواہ نے رپورٹ دی ہے۔دمشق کے مضافاتی علاقے میں رہنے والے احمد الخباز جو اس شرمناک واقعے کے چشم دید گواہ ہیں نے بتایا کہ حادثہ کے دن حکومت مخالف مسلح افراد غصے کی آگ میں جلتے ہوئے اس جلیل القدر صحابی کے مزار میں گھس گئے اور انہوں نے قبر پر بنی ضریح کو توڑنا شروع کر دیا جبکہ علاقے کے افراد انہیں اس کام سے منع کر رہے تھے مگر دھشتگردوں نے انہیں ڈرا دھمکا کر وہاں سے دور بھگا دیا اور ضریح کو توڑ کر قبر کھودنا شروع کر دیا جب جسد مطہر تک پہنچے تو اسے نکال کو خوشی کا اظہار کر رہے تھے اور زمین پر پاوں مار مار کر جشن منا رہے تھے۔احمد الخباز نے بتایا کہ انہوں نے جسد کو قبر سے نکال لیا البتہ جسد کی کوئی توہین نہیں کی اور اسے اپنے ساتھ کسی نامعلوم جگہ لے گئے۔حجر بن عدی نوجوانی میں اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ہمراہ پیغمبر اسلام کی خدمت میں شرفیاب ہو کر دین اسلام سے مشرف ہوئے تھے پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد آپ امیر المومنین علی السلام کے خاص صحابیوں میں شمار ہونے لگے اور امیر المومنین(ع) کی شہادت تک آپ کے ساتھ ساتھ رہے۔ آپ(ع) کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام کی رکاب میں رہے امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے امام حسین علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے معاویہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا جس کے نتیجے میں معاویہ کے کارندوں نے آپ کو کوفے سے زنجیروں میں جھکڑ کر شام لے جایا گیا اور معاویہ کے حکم سے آپ کو شہید کرنے کے بعد دمشق کے مضافاتی علاقے ’’عدرا‘‘ میں دفن کر دیا گیا۔........242
3 مئی 2013 - 19:30
News ID: 415690
احمد الخباز نے بتایا کہ انہوں نے جسد کو قبر سے نکال لیا البتہ جسد کی کوئی توہین نہیں کی اور اسے اپنے ساتھ کسی نامعلوم جگہ لے گئے۔