1 مئی 2013 - 19:30
بلوچستان میں دو اسکول بم دھماکوں سے تباہ

بلوچستان میں پولیس کے مطابق جمعرات کو نامعلوم افراد نے دو ایسے اسکولوں کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جن کو گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

ابنا:بلوچستان میں پولیس کے مطابق جمعرات کو نامعلوم افراد نے دو ایسے اسکولوں کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جن کو گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق لڑکوں کے یہ دو اسکول بلوچستان کے شمال مشرق میں واقع اضلاع نصیرآباد کے ایک گاؤں میں قائم تھے، جن میں سے ایک پرائمری جبکہ دوسرا مڈل اسکول تھا۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر طاہر اللہ الدین نے فرانس کے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسکولوں کو عام انتخابات میں پولنگ اسٹیشن میں تبدیل کرنے کی وجہ سے تباہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ سے پرائمری اسکول کے تین جبکہ مڈل اسکول کے بھی تین ہی کمرے تباہ ہو گئے۔

ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس واقعہ کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں عام انتخابات سے قبل ملک کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی امیدواروں اور ان کے دفاتر پر ہوئے حملوں میں کم سے کم سے 61 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یاد رہے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ دنوں ایک آزاد امیدوار عبدالفتح مگسی کو شدت پسندوں نے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔

عام انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے مارچ کے مہینے میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بیان میں گزشتہ دورِ حکومت میں اقتدار میں رہنے والی تین جماعتوں کو انتخابات کے دوران شدت پسندوں نے حملوں کی دھمکی دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲