ابنا: علي اصغر سلطانيہ نے پير کے روز جنيوا ميں اين پي ٹي نظر ثاني کانفرنس کے دوسرے مقدماتي اجلاس ميں کہا کہ جب تک ايٹمي ہتھيار موجود ہيں ان کے استعمال اور پھيلاؤ کا خطرہ بھي قائم رہے گاـ
علي اصغر سلطانيہ نے دسيوں ہزار جوہري ہتھياروں اور ان کے استعمال کے انديشوں کو انسانيت اور امن و سلامتي کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار ديا اور کہا کہ تاريخ بتاتي ہے کہ ايٹمي ہتھياروں کا پھيلاؤ ماضي ميں بھي اور عصر حاضر ميں بھي امريکا کے ذريعے اور جوہري ہتھياروں کے تجربے اور ان کے استعمال کي صورت ميں ہوا ہےـ
علي اصغر سلطانيہ نے کہا کہ اين پي ٹي کے رکن ممالک اس معاہدے کے منصفانہ نفاذ سے پيچھے ہيں اور تہران کا ماننا ہے کہ اين پي ٹي کے غير امتيازي اور منصفانہ نفاذ کا عالمي امن و سلامتي کے تعلق سے کليدي کردار ہےـ
آئي اے اي اے ميں ايران کے مندوب نے ايران پر صدام حکومت کي جانب سے مسلط کردہ جنگ ميں دسيوں ہزار افراد کے جانوں کے ضياع کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ ايران آج بھي اين پي ٹي اور آئي اے اي اے کا سرگرم رکن ہے اور آئندہ بھي رہے گا اور تہران کا يہ عزم ہے کہ خلاف ورزيوں کو جو خاص طور پر بعض مغربي ممالک کي جانب سے انجام پا رہي ہيں چيلنج کرے گا اور معاہدے کي خاميوں کو دور کرتے ہوئے اين پي ٹي اور آئي اے اي اے کے صحيح راستے پر پہنچائے گاـ
.......
/169