مشرق وسطیٰ میں امریکی ہتھیاریوں کی مارکیٹنگامن اور ہتھیار کبھی یکجا نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اگر کوئی امن کا نعرہ لگائے اور ساتھ میں ہتھیاروں کی تجارت کرے تو اسے امن کا پیامبر نہیں کہا جا سکتا۔ ان دنوں دنیا میں قیام امن کانعرہ لگانے والا امریکہ مشرق وسطی میں قیام امن کے نام پر عرب ممالک اور اسرائیل میں اپنے ہتھیاروں کی مارکیٹنگ میں مصروف ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی قیام امن کی کوششیں کی گئیں ان میں ترک اسلحہ اولین ترجیح رہی لیکن امریکہ کا عجب معاملہ ہے کہ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ کرتے ہوئے وہ امن قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ علاقے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ اسرائیل ہے جو ایک ناجائز مملکت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پر قابض ہے۔ فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے والی اس مملکت کو امریکہ نے عصری ہتھیاروں کی سربراہی کا فیصلہ کیا اور امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل کے حالیہ دورہ کے موقع پر ہتھیاروں کی فروخت کے سلسلے میں معاہدات پر دستخط کئے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہتھیار اسرائیل کو اس کے دفاع کے حق کے نام پر ہی دئے جا رہے ہیں اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان کا استعمال کسی کے خلاف ہو گا۔ امریکی وزیر دفاع کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے چیک ہیگل نے ہتھیاروں کی مارکیٹنگ کا آغاز کر دیا ہے اور مشرق وسطیٰ امریکی ہتھیاروں کی ہمیشہ ہی سے اچھی مارکٹ رہی ہے۔ علاقہ کے ممالک کو ایک دوسرے سے خوف دلا کر اپنے ہتھیاروں کے کاروبار کو عروج پر پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے چیل ہیگل اوباما حکومت میں ہتھیاروں کے کامیاب مارکیٹنگ اگزیکیٹیو ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کے ذریعہ امریکہ اپنی معیشت میں سدھار کا منصوبہ رکھتا ہو۔ عام طور پر کسی کے دوہرے معیار اور دوچہروں کی بات کی جاتی ہے لیکن امریکہ کے تین چہرے دنیا کے سامنے آشکار ہو چکے ہیں۔ وزیر خارجہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جان کیری مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں قیام امن کے مشن پر روانہ ہو گئے۔ انہوں نے مختلف تنازعات کی مذاکرات کے ذریعہ یکسوئی کی وکالت کی۔ اس طرح جان کیری نے اسرائیل اور عرب ممالک بشمول فلسطین اور ساری دنیا کو امن کا درس دیا۔ ابھی جان کیری کا امن مشن جاری ہی تھا کہ صدر امریکہ باراک اوباما دوسرے دور صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ مشرق وسطیٰ پہنچ گئے۔ انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کا بھی دورہ کیا اور امن باہمی مذاکرات کے سلسلے میں دونوں ممالک کو نصیحیتیں کیں۔ اوباما چونکہ امن کا نوبل انعام بھی رکھتے ہیں لہذا اس انعام کی لاج رکھنے کی کوشش کی گئی۔ ان کی نصیحتوں اور ہدایات کے بعد دنیا اسرائیل اور فلسطین میں مذاکرات کے احیاء کی منتظر تھی کہ اچانک وزیر دفاع چیک پیگل عصری ہتھیاروں کے نئے کیٹلاک کے ساتھ اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر نکل پڑے۔ ان تنیوں ممالک سے ۱۰۰ ارب ڈٓالر مالیتی ہتھیاروں کے فروخت کے معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں عصری میزائیل، لڑاکا طیارے اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔ اس طرح جان کیری وزیر خارجہ کے بھیس میں امن کے پجاری اور چیک ہیگل وزیر دفاع کی حیثیت سے ہتھیاروں کے سودا گر ثابت ہوئے تو پھر صدر اوباما کے بارے میں کیا کہنا۔ وہ تو امن کو نوبل انعام حاصل کر کے دنیا میں کچھ بھی کرنے کا لائسنس عملا حاصل کر چکے ہیں۔ کوئی بھی ان پر تخریب پسندی اور امن دشمنی کا الزام عائد کرے تو امن کا نوبل انعام اس کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ یوں بھی امریکہ کی تاریخ رہی ہے کہ جس شخصیت نے بھی دو میعادوں کے لیے صدارت کی ذمہ داری نبھائی وہ دوسری میعاد میں خطرناک ثابت ہوا اور اس کی حقیقت دوسری میعاد میں ہی کھل کر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی۔چیل ہیگل کو جس وقت امریکہ کا وزیر دفاع مقرر کیا جا رہا تھا اس وقت اسرائیل نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مخالفین انہیں ایران کے بارے میں نرم رویہ رکھنے والے قائد کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ یہودی بستیوں کے قیام کے مسئلہ پر انہوں نے اسرائیل پر تنقید بھی کی تھی لیکن وزارت دفاع کا عہدہ سنبھالتے ہی وہ امریکہ کی حقیقی پالیسی پر کاربند ہو گئے۔ وزیر دفاع کی حیثیت سے اپنے دورہ اسرائیل میں چیک ہیگل نے نہ صرف کھل کر اسرائیل کی تائید کی بلکہ ایران پر حملے کے اسرائیلی حق کی بھی بات کہی۔ ان کی موجودگی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن ننتن یاہو نے کہا کہ ایران کو نیوکلئیر طاقت بننے سے روکنے کے لیے ضرورت پڑنے پر فوجی کاروائی بھی کی جائے گی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ موشے ایلان نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی ہی آخری راستہ ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے اس دورہ میں اسرائیل کو فلسطینیوں پر مظالم بند کرنے یا مذاکرات کے احیاء کی کوئی تلقین نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ یہ کام کیوں کرتے۔ ان کا ایجنڈہ تو ہتھیاروں کی فروخت کو یقینی بنانا تھا۔ بات جتنی کشیدگی کی ہو گی اسی قدر زائد ہتھیار فروخت ہوں گے۔ امریکی وزیر دفاع اور اسرائیل سے کوئی تو یہ سوال کرے کہ آپ دونوں خود نیوکلیر طاقتیں ہیں پھر ایران کو نیوکلیئر پروگرام سے روکنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟ ویسے اب تو مصر سے بھی یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ روس کی مدد سے نیوکلیئر پروگرام کا احیاء کیا جائے گا۔ روس کے ماہرین کا وفد عنقریب مصر کا دورہ کرے گا اور یورانیم کے ذخائر کو فروغ دینے کا کام شروع ہو گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کیا اب مصر کو بھی نیوکلیئر پروگرام سے روک دیں گے؟ کیا مصر کے خلاف فوجی کاروائی کی جائے گی؟ امریکی وزیر دفاع کی موجودگی میں اسرائیلی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ جنوری میں شام کے اندورنی حصے میں عصری ہتھیاروں کے قافلہ پر جو فضائی حملہ ہوا تھا وہ اسرائیل کی کاروائی تھی۔ اسرائیل کو اندیشہ تھا کہ یہ ہتھیار حزب اللہ کو پہنچائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کی اس جارحیت پر اقوام متحدہ ، عرب ممالک اور خود امریکہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ دوسرے ملک کے اندورنی علاقہ میں حملہ کا اختیار کس نے دیا ہے؟ ایک طرف امریکی اور اسرائیلی قائدین کی ملاقات جاری تھی تو دوسری طرف عرب لیگ نے شام کے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ اس فیصلہ سے شام میں خونریزی میں اضافہ ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ مسلم ممالک اور امریکہ اور دیگر ممالک سے ہتھیار خرید کر باغیوں کے حوالے کریں گے تاکہ مسلمان ایک دوسرے کاخون بہا کر دشمنوں کا کام آسان کر دیں۔ امریکی وزیر دفاع نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کر کے ان ممالک سے بھی ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کئے۔ آخر متحدہ عرب امارات کو کس سے خطرہ ہے؟ سرحدپر تو کوئی خطرہ نہیں ہے بحرین میں بھی تو حکومت کو نہیں بلکہ عوام پس رہے ہیں۔ وہ بچارے اگر اپنا دفاع بھی کرتے ہیں تو پتھروں سے۔ ایسے میں جب عرب امریکہ سے یتھیار خریدے گا تو ان کا استعمال خود مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے کے لیے ہو گا۔ ان تمام تلخ حقائق کو دیکھ کر بھی کب تک عالم اسلام سچائی سے منہ موڑتا رہے گا کب تک امریکہ کی مرضی اور اس کے اشاروں پر مسلم اور عرب ممالک کٹھ پتلی بنے رہیں گے؟ امریکہ اور اس کے حلیف کھل کر اسرائیل اور دیگر مسلم دشمن طاقتوں کی طرفداری اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں بھر بھی ان کی تابعداری کیوں؟ حماس اور حزب اللہ تو صرف عوامی تنظیمیں ہیں اور نہتے ہو کر بھی ان بڑی طاقتوں سے لوہا لے رہے ہیں پھر عرب اور اسلامی ممالک کی حمیت دینی کو کیا ہوا کہ آزاد مملکتیں ہونے کے باوجود خوف زدہ ہیں۔ حالانکہ خوف اور مسلمان ، خوف اور اسلام کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔ عرب دنیا میں بھی ہتھیاروں کا سول ایجنٹ امریکہ ہی ہے عوام کو دیگا تو حکمرانوں کے خلاف استعمال کے لیے جیسا کہ شام میں ہو رہا ہے۔ اور حکمرانوں کو دے گا تو عوام کے خلاف استعمال کے لیے جس کی زندہ مثال بحرین ہے۔ اب تو یہی امریکہ بہار اسلام کے نام پر آنے والی مصر کی اخوان المسلمین کی حکومت سے مضبوط دفاعی تعلقات کا خواہاں ہے اس کا کہنا ہے کہ عوامی انقلابات دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ چیک ہیگل نے مصر کا بھی دورہ کیا۔ ظاہر ہے کہ بہار اسلام کے نام پر اقتدار میں آنے والوں میں امریکہ کو بھی کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔ لہذا اس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ بہار اسلام نہیں بلکہ وہاں بہار ایمان کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں آنے کے لیے تحریکات ایک ذریعہ ہیں لیکن اس کا تسلسل قائم رکھنا ایک حقیقی انقلاب ہو گا۔ مصر حالانکہ تنظیم اسلامی کانفرنس کا اہم رکن ہے لیکن وہ شام میں باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محمد مرسی ،بشار الاسد اور باغیوں میں مصالحت کی مساعی کرتے جو اسلامی روح کے عین مطابق بھی ہے۔ عرب ممالک کو جان لینا چاہئے کہ ہتھیاروں کی خریداری سے امن نہیں بلکہ خون خرابہ بڑھے گا اور جہاں تک ان ممالک کے تحفظ کا سوال ہے تو وہ انہیں خود اپنی طاقت پر انحصار کرنا ہو گا۔ بقول منظر بھوپالی:محافظ اپنے ہی آپ ہو تم یہ یاد رکھوپڑوس میں بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
27 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 413887
بہار اسلام کے نام پر اقتدار میں آنے والوں میں امریکہ کو بھی کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔ لہذا اس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ بہار اسلام نہیں بلکہ وہاں بہار ایمان کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں آنے کے لیے تحریکات ایک ذریعہ ہیں لیکن اس کا تسلسل قائم رکھنا ایک حقیقی انقلاب ہو گا۔ مصر حالانکہ تنظیم اسلامی کانفرنس کا اہم رکن ہے لیکن وہ شام میں باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محمد مرسی ،بشار الاسد اور باغیوں میں مصالحت کی مساعی کرتے جو اسلامی روح کے عین مطابق بھی ہے۔ عرب ممالک کو جان لینا چاہئے کہ ہتھیاروں کی خریداری سے امن نہیں بلکہ خون خرابہ بڑھے گا۔