اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صوبہ الانبار میں فوج کے آپریشن کمانڈر نے الانبار میں دھرنا دینے والے باغیوں کو صرف 24 گھنٹے کی مہلت دی ہے کہ وہ فوجی جوانوں کے قتل میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کریں۔ جبکہ فرانس پریس نے کرکوک سے رپورٹ دی ہے کہ "پیش مرگ" کرد فورسز نے کرکوک کے ارد گرد پوزیشنیں سنبھال لی ہیں اور "کرد پیش مرگ" فورسز کی وزارت نے دعوی کیا ہے کہ صوبائی گورنر کے ساتھ مذاکرات کے بعد طے پایا ہے کہ "سلامتی کا خلا پر کرنے" اور "شہریوں کے مال و جان کے تحفظ" کے لئے مختلف علاقوں بالحصوص کرکوک کے اطراف میں کرد پیش مرگ فورسز تعینات کی جائیں۔ ادھر عراقی اہلکاروں کی طرف سے حالات کو پرامن بنانے اور فتنہ انگیزیوں کے خاتمے کی کوشش کے ساتھ ساتھ، فلوجہ کہ خطیب جمعہ نے فوجی وردی قبول کرکے عوام کو حکومت کے خلاف جنگ کی دعوت دی۔ واضح رہے کہ شام کے ساتھ اب عراق میں بھی سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائیل کی تحریک پر فتنہ انگیزی کی کوششوں نے زور پکڑ لیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فلوجہ کے امام جمعہ شیخ علی محسن البصری نے الانبار میں مسلح باغیوں کے مجمع میں حاضر ہوکر فتنہ انگیزی کی نیت سے دعوی کیا کہ عراق میں اہل سنت اقلیت نہيں بلکہ خاموش اکثریت کو تشکیل دیتے ہیں اور وہ اپنی آواز اٹھائیں گے۔ ادھر صوبہ "صلاح الدین" کے گورنر نے کہا ہے کہ "سلیمان بیک" کے عوان سرکاری فورسز کی مدد سے اپنے گھروں کو لوٹے ہیں اور اس علاقے کے قبائل نے ایک دستاویز پر دستخط کرکے خانہ جنگی اور عراقی شہریوں کی خونریزی کو حرام قرار دیا ہے۔ گورنر احمد عبداللہ نے کہا: صوبہ صلاح الدین کے شہر سلیمان بیک کا بحران اختتام پذیر ہوچکا ہے اور عوام حکومت کی مدد سے اپنے گھروں کو لوٹے ہیں؛ اور اس علاقے کے عمائدین نے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ دیا ہے کہ سرکاری فورسز کی تعیناتی سے قبل، مسلح شدت پسند اس شہر کو ترک کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ بغداد کے مغربی شہر فلوجہ میں گذشتہ تین دنوں سے مسلح دہشت گردوں اور سرکاری فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد پولیس اس شہر سے نکل گئی ہے اور اسپیشل فورسز اور مقامی پولیس نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ادھر شام اور لیبیا میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے فتوے دے کر قطری امیر اور اسرائیل و امریکہ کے مقاصد کے لئے مزاحمت محاذ کو نقصان پہنچانے کے لئے عراق میں بھی قطری امیر، سعودی حکومت اور ترک حکومت کا ہاتھ بٹانے کے لئے عراق میں بھی فتنہ انگیزی کا بیڑا اٹھایا ہے اور دعوی کیا ہے کہ عراق میں اہل سنت کے حقوق پامال ہورہے ہیں۔ قطری امیر حمد بن خلیفہ کے مصری بہنوئی شیخ یوسف القرضاوی ـ جو کسی زمانے میں اسرائیل کے دشمن اور اتحاد بین المسلمین کے داعی مانے جاتے تھے اور باپ کے خلاف بغاوت کرکے قطر پر مسلط ہونے والے حکمران کی علاقے کے ممالک میں مداخلت کے بعد سے ان کی جارحانہ پالیسیوں کو دینی لبادہ پہنانے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اور مصری نژاد ہونے کے باوجود قطری شہریت کے حامل اور دوحہ کی "شاہی مسجد" کے امام جمعہ ہیں ـ نے کل دوحہ میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران عراق کے اقتدار میں اہل سنت کی معقول شراکت کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا: دنیا بھر کے ممالک کے سنی ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ عراقی اہل سنت کو سیاسی میدان سے نکال باہر کیا جائے اور عراقی حکومت سب کچھ اپنے لئے اٹھا لے!۔قطری مفتی جو ماضی میں اسرائیل مخالف موقف کے برعکس حال ہی میں اسرائیل کے خلاف موقف اپنانے سے پرہیز کی وجہ سے "اسرائیلی مفتی" کا لقب کما چکے ہیں؛ نے کہا کہ عراقی حکومت کا مقابلہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ عراق میں حکومت اور پارلیمان عوامی رائے سے تشکیل پائی ہے اور عراق کے تمام مذاہب اور اقوام اپنی آراء کی تعداد کی بنیاد پر سیاست اور اقتدار میں جصہ دار ہیں اور وہابیت و القاعدہ کی طرف سے نہتے شیعہ عراقیوں کا قتل عام گذشتہ دس برسوں سے معمول بن چکا ہے؛ مگر مفتی الفتنہ جناب القرضاوی نے دعوی کیا کہ "عراق میں اہل سنت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور یہ کہ "عراقی حکومت ایران اور حزب اللہ کی مدد سے سنیوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے!!!"۔القرضاوی نے دہشت گردی کی سرپرستی کے جرم میں پھانسی پاکر ترکی میں پناہ لینے والے سابق نائب صدر "طارق الہاشمی" کی حمایت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ الہاشمی ایک "سنی" ہے جس کو عراق میں ظلم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واضح رہے کہ عراق میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں طارق الہاشمی کے ملوث ہونے کے ثبوت ملنے کے بعد وہ عراق سے بھاگ گیا اور امیر قطر کے دامن میں پناہ لی لیکن امیر قطر اس کو پناہ دینے سے انکاری ہوا تو وہ آل سعود کی پناہ میں چلا گیا اور سعودی حکام بھی اس کو پناہ دینے کے روادار نہ ہوئے جس کے بعد وہ ترکی چلا گیا جو آج کل اسرائیل کی حمایت کے لئے بننے والے محاذ میں بنیادی کردار ادا کررہا۔ ترکی میں سلطنت عثمانیہ کے احیاء کے سپنے دیکھنے والے اسرائیل نواز وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے اس شخص کو باقاعدہ اور دائمی پناہ دے دی۔ قطر کے سرکاری مفتی ایسے حال میں شام میں اسرائیلی پسند کی جمہوریت اور عراق میں اہل سنت کے عوام کی حمایت کے دعوے کررہے ہیں کہ قطر کے اندر سنی عوام ایک خاندان کی قید میں ہیں اور وہاں حتی شعراء کو عوامی حقوق پر مبنی شعر کہنے پر برسوں کی قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں اور جمہوریت کا نام لینا جرم تصور کیا جاتا ہے اور قطر کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کی دیگر ریاستوں میں بھی نہ کوئی منتخب پارلیمان ہے اور نہ ہی منتخب حکومت کا تصور؛ اور ان میں سے بعض ریاستوں میں تو درباری مفتیوں نے ووٹ دینے کے عمل کو ہی حرام قرار دیا ہے۔ ان ریاستوں میں نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ ہی اقلیتوں کو کوئی حق دیا جاتا ہے حتی بحرین کی اکثریت نے حکومت تبدیل کرنے کے لئے تحریک کا آغاز کیا تو سعودی عرب نے اس ریاست پر چڑھائی کردی اور یوسف القرضاوی نے عوامی انقلاب کو فرقہ وارانہ تحریک کا نام دیا!!!القرضاوی نے لیبیا میں قذافی کے خلاف جنگ کے دوران قذافی کے قتل کا فتوی دیا اور قطر کے حکمران کی طرف سے مال و دولت اور قرضاوی کی طرف سے فتؤوں نے تیل کی دولت سے مالامال لیبیا کو امریکہ اور یورپ کے گلے میں انڈیل دیا اور جب شام میں اسرائیل مخالف محاذ کو نقصان پہنچانے کے لئے بغاوت کا آغاز ہوا تو قطر کے امیر نے لیبیا والی پالیسی پر کاربند ہوکر القرضاوی کو اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ایک بار پھر آلہ کار بنا کر ان سے خوب خوب فتوے جاری کروائے اور انھوں نے مختلف ممالک سے قطر، ترکی اور سعودی عرب کے بھجوائے ہوئے دہشت گردوں کی حمایت میں کوئی کسر روا نہ رکھی اور حتی کہ شام کے علماء کے قتل کے فتوے دیئے اور اب جب اسرائیل کے حامی محاذ نے عراق کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو القرضاوی ایک بار پھر فتنہ انگیز مفتی کی حیثیت سے آگےآگے نظر آرہے ہیں۔دریں اثناء القرضاوی نے اپنی فتنہ انگیزی کو ایسے حال میں شدت بخشی ہے کہ شمالی عراق میں کئی دنوں سے جاری خونریز جھڑپوں کے بعد حکومت اور عوام کے باہمی تعاون سے حالات بہتر ہورہے ہیں۔.......
/*