ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی مرکزی ایشیائی ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنےکے لئےقزاقستان پہنچ گئے ہیں جہاں انھوں نے گروپ 1+5 کے مذاکرات کی میز پر جلد واپس آنے کی توقع ظاہرکی ہے۔
صالحی نے کہا کہ مرکزي ایشیاء کے وزراء خارجہ کا اجلاس افغانستان کے موضوع پر منعقد ہورہا ہے اس اجلاس میں افغانستان میں پائدار امن قائم کرنے کی راہوں پر غور کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں 40 ممالک اور بین الاقوامی ادارے شرکت کر رہے ہیں۔ صالحی نے آلماتی میں ایران اور گروپ 1+5 کے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آلماتی مذاکرات کا آغاز اچھا آغاز تھا اور اس میں قابل توجہ پیشرفت حاصل ہوئی اور گروپ 1+5 نے اپنے دارالحکومتوں سے مشورے کے بعد مذاکرات کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور انھیں اپنے اس عہد پر عمل کرنا چاہیے۔
صالحی نے کہا کہ ایران منطقی اور بامقصد مذاکرات کے لئے ہمیشہ سے آمادہ ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ گروپ 1+5 جلد مذاکرات کی میز پر واپس آجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
صالحی نے کہا کہ مرکزي ایشیاء کے وزراء خارجہ کا اجلاس افغانستان کے موضوع پر منعقد ہورہا ہے اس اجلاس میں افغانستان میں پائدار امن قائم کرنے کی راہوں پر غور کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں 40 ممالک اور بین الاقوامی ادارے شرکت کر رہے ہیں۔ صالحی نے آلماتی میں ایران اور گروپ 1+5 کے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آلماتی مذاکرات کا آغاز اچھا آغاز تھا اور اس میں قابل توجہ پیشرفت حاصل ہوئی اور گروپ 1+5 نے اپنے دارالحکومتوں سے مشورے کے بعد مذاکرات کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور انھیں اپنے اس عہد پر عمل کرنا چاہیے۔
صالحی نے کہا کہ ایران منطقی اور بامقصد مذاکرات کے لئے ہمیشہ سے آمادہ ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ گروپ 1+5 جلد مذاکرات کی میز پر واپس آجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲