20 اپریل 2013 - 19:30
موجودہ دور میں شیعہ سنی اتحاد، اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھ کا کانٹا

ایران کے اہلسنت عالم دین نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران مسلمانون کے صفوں میں اتحاد و یکجہتی کو اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بہترین ذریعہ عنوان کرتے ہوئے کہا: موجودہ دور شیعہ سنی اتحاد،اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھ کا کانٹا ہے۔

ابنا: ایران کے اہلسنت عالم دین نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران مسلمانون کے صفوں میں اتحاد و یکجہتی کو اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بہترین ذریعہ عنوان کرتے ہوئے کہا: موجودہ دور شیعہ سنی اتحاد،اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھ کا کانٹا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نور نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کے ایک شہر جرگلان کے امام جمعہ مولانا صمدی نے اس ہفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں کہا: موجودہ دور میں جمہوری اسلامی ایران دنیا میں اتحاد و یکجہتی کا عمبر دار ہے اور ہمارے معاشرہ میں شیعہ اور سنی مل جل کر آپسی ہمدردی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جس سے اسلام دشمن طاقتیں رخنہ ڈالنے سے عاجز ہیں اور وہ ہمیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے لانے کےلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے اور خداوند متعال کے احکامات اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائیوں پر عمل کرکے دشمن کے پروپگنڈوں کو خاک میں ملا دینا چاہئےاور ایران سے باہر مسلمانوں کو بھی ایران میں شیعہ سنی اتحاد و یکجہتی سے سبق حاصل کرکے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسکی حفاظت کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا : آیت(واعتصموا بحبل الله جمیعا و لاتفرقوا)مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتی ہے اور اس آیت کے ابتدائی حصہ میں تقویٰ الہی اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے،یعنی یہ اتحاد اللہ کی رضا کیلئے ہونی چاہئے۔

امام جمعہ جرگلان نے مذید کہا:مسلمانوں کی کامیابی کا راز صرف اتحاد ہے ، قرآن کریم میں بھی اسکی تاکید ملتی ہے اور آج یہ ثابت بھی ہو چکا ہےکہ اتحاد ہی کے سایہ میں رہ کر مسلمان کامیاب ہوسکتے ہیں۔

مولانا صمدی نے کہا:مسلمانوں کے اتحاد کی اہم ترین اور بے عیب ترین سند قرآن کریم ہے اور خدا کی اس کتاب کی آیات اور احکامات پر عمل ہی دشمنوں کے پروپگنڈوں کو ناکارہ کرنے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے رواں سال میں ایران میں ہونے والے صدارتی اتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا :ایرانی قوم شہری ہویا دہاتی ، شیعہ ہو یا سنی سب مل کر صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے اور اس طرح سال حماسہ سیاسی کو وجود میں لائیں گے(یاد رہے کہ ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای نے اس سال کا نام حماسۂ سیاسی و حماسۂ اقتصادی یعنی سیاسی اور اقتصادی جہاد کا سال رکھا ہے)۔

انہوں نے آخر میں کہا : اسلامی ایران کی ولایت محور قوم کی والہانہ انداز میں شرکت اس مقدس اسلامی نظام کے دشمنوں کی آنکھ میں کانٹا ہوگی اور سامراج کی تمام مکاریوں اور ہتھکنڈوں پر پانی پھیر دے گی۔

.......

/169