17 اپریل 2013 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 13 سالوں سے صوبے کے عوام جن مسائل و مشکلات اور شیعہ قوم میں بربریت و سفاکی کا شکار رہی ہے اس کے خاتمہ اور صوبے میں دائمی قیام امن کیلئے ضروری ہے کہ عوام کے حقیقی نمائندوں کو اسمبلیوں میں عوام کی آواز بلند کرنے اور صوبے کے تعمیر و ترقی کے سلسلے میں عملی کردار کا حق مل جائے تاکہ عوامی نمائندے اپنے حلقوں کے حقیقی مسائل کا حل اور آئین سازی کے عمل میں عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے کردار ادا کر سکیں۔

 پارٹی کے نامزدامیدواروں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی اصل مسائل اس وجہ سے حل نہ ہو سکیں کہ عوام کے حقیقی نمائندوں کو ہمیشہ اسمبلیوں سے باہر رکھ کر ایسے افراد کے انتخاب کیلئے سازشیں ہوتی رہی جو کسی طرح عوام کے نمائندگی کا اہل نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ بلوچستان دیگر صوبوں کی بہ نسبت تعلیم صحت کاروبار تجارت صنعت اور معیشت کے لحاظ سے سب سے پسماندہ صوبہ رہا حالانکہ صوبے کے پاس اتنے وسائل موجود ہے کہ اس کے درست استعمال کے ذریعے صوبے کی تقدیر بدلا جا سکتا تھا اور صوبے کو مثالی حیثیت دلا سکتا تھا۔ مگر مناسب اور مخلص نمائندگی نہ ہونے کے سبب آج صوبہ بد ترین پسماندگی کا مثال بنا ہوا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ ادوار میں عوام کے ساتھ کرپشن اورظلم ہوئے ہیں۔ عوام کے ساتھ حق تلفی کی گئی۔عوام الناس 11 مئی وعدہ کے دن اپنے حقیقی نمائندے کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں۔ مجلس وحدت مُسلِمین گذشتہ کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں کامیاب ہونگے۔ مجلس وحدت مُسلِمین عوام سے توقع ظاہر کرتے ہیں کہ 11 مئی کو خیمہ کے نشان پر مہر لگا کر پارٹی کی نامزد اُمیدواروں کو کامیاب بنائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ا سلامی مذاہب میں رواداری تحمل و برداشت ہی سے اسلام اور اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان کو ترقی ملتی ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جس سے حضور اکرم محمد مصطفی  راضی ہو نگے اس سلسلے میں محنت کر نے والے افراد خدا و رسولؐ کی رضایت کے اسباب فراہم کر تے ہیں۔اس سلسلے میں جناب فضل کریم صاحب کی خدمات روز روشن کی طرح واضع ہے انکی موت سے امت مسلمہ ایک عظم اور مفید رہنما سے محروم ہو گئے۔مجلس وحدت مُسلِمین انکے غم میں سوگوار ہے اور پاکستان کے تمام عوام بالخصوص مسلمانوں کو انکے رحلت کے سلسلے میں ہدیہ تسلیت پیش کرتے ہیں.

.....

/169