12 اپریل 2013 - 19:30
مقبوضہ فلسطين سے صہيونيوں کا فرار

اسرائيل ميں ابتر معاشي اور سماجي صورتحال کے پيش نظر مقبوضہ فلسطين ميں لاکر بسائے جانےوالے صہيونيوں کي دوبارہ اپنے ملکوں کي واپسي کے عمل نے صہيوني حکام کي نينديں حرام کردي ہيں -

ابنا: مقبوضہ فلسطين سے يہوديوں کي واپسي ميں آنے والي شدت سے صيہوني حکام کو تشويش ميں مبتلا کرديا ہے-
سياسي، اقتصادي، اور سلامتي سےمتعلق مشکلات پريشانياں حاليہ عشروں کے دوران مقبوضہ فلسطين نے يہوديوں اور عيسائيوں کي واپسي کي سب اہم وجوہات سمجھي جاتي ہيں-
صيہوني حکومت کے اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک ہزاروں کي تعداد ميں يہودي مقبوضہ فسلطين يعني اسرائيل کو چھوڑ اپنے اپنے آبائي ملکوں کي جانب لوٹ گئے ہيں-
فلسطيني مزاحمتي گروہوں کي بڑھتي ہوئي سرگرميوں کي وجہ سے يہوديوں کے فرار اور اس کے نتيجے ميں اسرائيل سے يہوديوں کي واپسي کے عمل ميں آنے والي شدت نے  صيہوني حکام کي نينديں حرام کرديں کيونکہ اسرائيل ميں آبادي تناسب ختم ہونے کا خطرہ پيدا ہوگيا ہے-
صہيوني اخبارات ، يديعوت احارونوت نے اپني حاليہ اشاعت ميں لکھا ہے کہ  مقبوضہ فلسطين سے يہوديوں کي بالعکس مہاجرت نے اسرائيل کي بقا کے لئے ايک سنگيں خطرہ ہے-
رائے عامہ کے جائزوں اور سروے رپورٹوں سے بھي اس بات کي نشاندھي ہوتي ہے کہ اسرائيل کي ايک چوتھائي آبادي اٹھارہ سے انتيس سال کي عمر مقبوضہ فلسطين سے باہر جانے کے بارے ميں سوچتي ہے-
دوسري جانب اسرائيل کے ادارہ شماريات کے جاري کردہ قطعي اعداو شمار کے مطابق دنيا کے ديگر علاقوں سے يہوديوں کي مقبوضہ فلسطين مہاجرت ميں زبردست کمي واقع ہوئي ہے-
صيہوني ذرائع ابلاغ نے ادارہ شماريات کے اعداد شمار کا حوالہ ديتے ہوئے لکھا ہے کہ  سن دوہزار گيارہ ميں صرف سولہ ہزار لوگ اسرائيل ميں آکر آباد ہوئے ہيں-
درايں اثنا صيہوني ذرائع ابلاغ نے اس بات کا بھي اعتراف کيا ہے کہ اسرائيل سماج ميں غربت، بے روزگاري، قتل اور خودکشي کے واقعات ميں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے-
سرکردہ اسرائيل ماہر اقتصاديات  اور سرکاري بيمہ کمپني کے ريسرچر ميري اينڈو والٹ نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ گزشتہ چھے برس کے دوران برسر روزگار ملازمين اور مزدوروں کي آدھي سے زيادہ تعداد بے روزگار ہوگئي ہے-
صيہوني اخبار آہارٹص نے بھي اپني ايک رپورٹ ميں مرکزي بينک کے حوالے لکھا ہے کہ پچھلے ايک عشرے کے دوران اسرائيل سماج ميں غربت کي شرح ميں قابل غور اضافہ ہوا ہے-
اسرائيل کے مرکزي بينک نے بھي زرمبادلہ کے سرکاري ذخائر ميں کمي کي خبر دي ہے  جسکي وجہ سے ڈالر کے مقابلے ميں شيکل کي قدر ميں زبردست کمي واقع ہوئي ہے-
غربت ، بے روزگاري، اور اسرائيل سے واپس جانے والے يہوديوں کي تعداد ميں اضافے  ايک طرف اور صيہوني حکام کي مالي اور اخلاقي بدعنوانيوں نے ملکر اس حکومت کے لئے ٹھوس خطرات پيدا کرديئےہيں اور اگر يہ سلسلہ جاري رہا تو صيہوني سماج کے شيرازہ بھکرتے دير نہيں لگے گي.

.......

/169