وطن کی فکر کر نادان - عوامی رد عمل کے فقدان کے اسباب '…ِإِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ …' (رعد١١)خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت کے بدلنے کاویسے تو پاکستان جب سے بنا ہے ہر روز پاکستانی قوم کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن گزشتہ ٢٠ سالوں سے پاکستان پیچیدہ ترین حالات کا شکار ہے۔ ان دو دہائیوں کی صورتحال دیکھ کر ہر پاکستانی کے ذہن میں متعدد سوالات سر اٹھاتے ہیں ، مثلاًیہ کہ پاکستان ان بحرانوں کا شکار کیسے ہوا؟ کون لوگ اس کے ذمہ دار ہیں؟ کس کس نے پاکستان کے ساتھ خیانت کی ہے؟ اس گمبھیر صورت حال میں بیرونی مداخلت کا کتنا حصہ ہے؟ داخلی عوامل کون کونسے ہیں؟ مختلف طبقات نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ حکمرانوں کا اس میں کیا رول ہے؟ سیاستدانوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کیا رہی ہے؟ مذہبی طبقے نے اس میں کیا گل کھلائے ہیں؟ سیکولر طبقے نے کیا کیا ہے؟ میڈیا کا رول اس صورت حال کی پیدائش میں کیا ہے؟ اہل قلم نے کیا کیا ہے ؟ تعلیم یافتہ طبقہ اس میں کتنا ذمہ دار ہے؟ بیوروکریسی نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ فوج اور فوجی جرنیل اس میں کس حد تک ملوّث ہیں؟ علماء کا کارنامہ کیا ہے؟ یہ سب نہایت اہم سوالات ہیں جو ہر باشعور پاکستانی کے ذہن کو جھنجھوڑتے ہیں ۔ مذکورہ طبقات کی کارکردگی اتنی واضح ہے کہ جواب کے لئے کسی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں پاکستانی عوام کا کردارہم اس تحریر میں ایک نہایت ہی پیچیدہ سوال کا جواب تلاش کر نے کی کوشش کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان ماضی میں جس صورت حال سے دوچار رہا ہے اور آج جو مشکلات پاکستان کے گریبان گیر ہیں ان میں عوام کا کردار کیا ہے ؟ کیونکہ آئے دن پیدا ہونے والے بحرانوں میں عوام پریشان ضرور ہوئے ہیں ، گھبرائے ضرور ہیں ، خوفزدہ بھی ہوئے ہیں لیکن عملی طور پر اس ساری صورت حال سے لاتعلق بھی رہے ہیں۔ ان بحرانوں میں ایسے حالات بھی پیش آئے ہیں جو پاکستان کو عوام سمیت ڈبو سکتے تھے۔ ایسے حالات میں بھی عوامی سطح پر خوف و ہراس اور گھبراہٹ و پریشانی کے علاوہ کوئی عکس العمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا لیکن عوامی سطح پر کوئی چشم دید حرکت سامنے نہیں آئی ، حکمران ہوسِ اقتدار میں مست ہوکر عوام پر ظلم ڈھاتے رہے لیکن ان کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوا، لوگوں کا استحصال کرنے والے سرمایہ دار اور جاگیر دار عوام کے خون پسینے سے حاصل کی گئی ضروریات زندگی ان سے چھین کر غارت کرتے رہے لیکن پاکستانی قوم نے ان کے مقابلے میں کبھی کوئی خاطر خواہ احتجاج بھی نہیں کیا۔ آئے دن فوجی بغاوتوں کے ذریعے منتخب حکومتیں ختم کی گئیں ، مارشل لا لگائے گئے ، ملکی آئین توڑا گیا ، انتخابات میں دھاندلیاں ہوئیں ، عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ، کھلم کھلا بیت المال لوٹا گیا ، عدالت و انصاف کا دن دہاڑے گلا کاٹا گیا ، آمروں نے عوام کو بے دردی سے کچلا، ملک کو غیروں کے ہاتھ فروخت کیا گیا ، امریکہ کی ایما پر افغان جنگ میں نامعقول انداز سے حصہ لیا گیا ، پر امن ملک میں کلاشنکوف کلچر فروغ دیا گیا ، بچے بچے کو منشیات کا عادی بنایا گیا ، جہاد کے نام پر دہشت گرد پالے گئے ، حکومت کی سرپرستی میں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی ، خفیہ سروسز کے ذریعے دہشت گرد وں کے نیٹ ورک بنائے گئے ، عرب اور غیر عرب درندوں کو پاکستان میں بسایا گیا ، لشکر بناکر قوم کے بچوں کو جہاد کے نا م پر دہشت گردی کی راہ پر ڈالا گیا ، طالبان کی پرورش کے لئے مدارس بنائے گئے اور مدارس کی سرپرستی کی گئی ، سعودی عرب جیسے ممالک کو پاکستان میں تکفیری اور نفرت انگیز نظریات پھیلانے کی مہلت دی گئی ، اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لئے امریکہ جیسے خونخوار کا سہارا لیا گیا ، امریکی ایما پر تمام پالیسیاں بدل دی گئیں ، قدیر خان جیسے پاکستان کے محسن اور قوم کے ہیرو کو دنیا کے سامنے مجرم بناکر پیش کیا گیا، ایٹمی تنصیبات کے دروازے غیروں کے لئے کھول دیئے گئے ، دین و مذہب کا مذاق اڑانے کے لئے ہر بیہودہ ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ، دہشت گردوں کو پناہ دے کر امریکی اور نیٹو افواج کی مداخلت کا جواز پیدا کیا گیا، پاکستان سے سادہ لوح افراد کو مجاہد بناکر افغانستان بھیجا گیا ، پھر افغانستان سے انہیں دہشت گرد بناکر پاکستان آباد کیا گیا ، ان درندوں کو اتنی مہلت دی گئی کہ پورے ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکیں ، ملک میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے ان خونخوار بھیڑیوں کو مہلت دی گئی ، دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں پاکستان کا امن و امان تباہ کر دیا گیا ، اپنے ہی ملک پر غیر ملکی افواج کو حملے کی دعوت دی گئی ، پاکستان کی سر زمین پاکستانیوں کے لئے نا امن بنا دی گئی ، مصنوعی بحرانوں میں مبتلا کر کے قوم کو بنیادی ضرورتوں سے محروم کیا گیا ، مہنگائی کا عفریت ایجاد کر کے متوسط طبقے کو فقیر اور فقراء کو فاقوں کی حد تک پہنچا دیا گیا ، اقتدار میں آنے کے لئے سرعام امریکہ سے سودے بازی کی گئی ، سزا یافتہ مجرموں کے گھنائو نے جرائم معاف کر کے انہیں حکومتی منصب تفویض کئے گئے ، مذہب کے نام پر پاکستانی مسلمانوںکو ایک دوسرے کا دشمن بنایا گیا ، وحدت کی بجائے تفرقہ اور محبت کے بجائے نفرت کے بیج بوئے گئے ۔مسجدوں میں عبادت کے بجائے نفاق کی تعلیم دی جا رہی ہے ، تعلیمی مراکز تباہ حال اور ویران ہو رہے ہیں ، فساد و فحشا کا بازار گرم ہے ، لوگوں کی جان، مال ، عزت حتیٰ کہ زندگی تک محفوظ نہیں ہے، پاکستان سیاسی طورپر ناکام ریاست ، مالی طورپر دیوالیہ ، عسکری لحاظ سے مفلوج ، اجتماعی لحاظ سے تباہ اور سلامتی کے حوالے سے خطرناک ترین اور نا امن ترین سرزمین کا لقب پاچکا ہے ، قوم پرستی ملکی وحدت کو نگل رہی ہے ، صوبوں میں احساس محرومیت زور پکڑتا جا رہا ہے ، پاکستانی حکمرانوں ، سیاستدانوں اور جرنیلوں کی گرفت روز بروز ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے ، دنیا میں بدنام ترین مملکت کا اعزاز پاکستان کو مل چکا ہے ، پاکستان اپنے دوستوں کو مکمل طور پر کھوچکا ہے ، عالمی خصوصاً مغربی اور امریکی میڈیا میں پاکستان کے ٹوٹنے اور معاذ اﷲ خاتمے کے دن گنے جا رہے ہیں۔لیکن اس کے باوجود پاکستانی عوام کی جانب سے کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا اور مستقبل قریب میں اس کی امید بھی نہیں ہے ، لوگ پرانے زخموں کو بھول کر نئے شکنجوں کی انتظار میں بیٹھے ہیں ، بد سے بدتر کی توقع قوم کا مزاج بن چکی ہے ، ہر فاسد حکمران کے بعد اس سے بڑے لٹیرے کو انتخاب کرنے کے لئے الیکشن میں بھرپور حصہ لیتے ہیں ، ایک تباہی کے بعد دوسری تباہی کو اپنا مقدر سمجھ کر خاموش بیٹھے ہیں، میڈیا جیسے خناس کے وسوسوں میں الجھے ہوئے اذہان اس مخمصے میں پڑے ہیں کہ خونخوار درندوں کو مجرم کہیں یا ہیرو سمجھیں ، خود کش حملوں میں مرنا قضائے الٰہی سمجھ کر اپنی قسمت پر راضی رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہماری سوچ اور قرآن کاقانونمجرموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا ، فسادی ملائوں کو امام ماننا، کرپٹ بیوروکریسی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا اور بدکردار سیاستدانوں کی شیطانی سیاست پر کھیلنا آہستہ آہستہ اس قوم کا مزاج بن گیا ہے، گویا پاکستانی قوم اس بات پر یقین کر بیٹھی ہے کہ پاکستان کے حالات کبھی نہیں سدھریں گے لہٰذا انہیں اور ان کی نسلوں کو ایسے ہی زندہ رہنا ہوگا جبکہ اﷲ تعالیٰ کا حکم اس سے ہٹ کر ہے ۔ قرآن کا فرمان اس سوچ کے برخلاف ہے ۔ عقل سلیم اس بے منطقی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے :'…ِإِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ…'خدا وند تعالیٰ کے اس آسمانی اور قرآنی فارمولے کا ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے ۔خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت کے بدلنے کاقرآن مجید میں خدا وند متعال نے بہت ساری قوموں کے حالات مسلمانوں کی ہدایت کے لئے ذکر فرمائے ہیں جن میں قوموں کے عروج اور زوال کو عینی شواہد کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کس طرح قومیں وجود میں آتی ہیں، کس طرح عروج کی منزلیں طے کرتی ہیں اور کیسے زوال پذیر ہوتی ہیں ، قوموں کو عزت کیسے ملتی ہے اورذلیل کیسے ہوتی ہیں۔ قرآن نے قوموں کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب بیان کئے ہیں اور ان کی ترقی اور انحطاط کے راستے بھی ذکر کئے ہیں۔ان قرآنی آیات کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ ان پر خوش خطی کی جائے،انہیں مُردوں پر پڑھا جائے، ان پر سریں جمائی جائیں، ان سے استخارے نکالے جائیں یا ان پر تفسیری علوم و فنون کی مشقیں کی جائیں۔ بلکہ اس قسم کی آیات کے نزول کا مقصد مخاطبین قرآن کو یہ بتانا تھا کہ ان کا ملک آباد کیسے ہوتا ہے ، اس میں امن و امان کیسے برقرار ہوتا ہے، اس کے اندر رزق کی فراوانی کیسے ہوتی ہے ، لوگوں کے جان و مال کیسے محفوظ رہتے ہیں ، دہشت گردی پر کیسے قابو پایا جاتا ہے ، مہنگائی کیسے کنٹرول کی جاتی ہے ، عزت و عظمت تک کیسے پہنچا جا تا ہے ، ملک کا دفاع کیسے مضبوط ہوتا ہے ، محبت و الفت کیسے بڑھتی ہے ، سیاسی استحکام کیسے پیدا ہوتا ہے ، غلامی سے کیسے نجات ملتی ہے ، فاسد سیاستدانوں سے کیسے نجات ملتی ہے ، دین فروش ملائوں سے کیسے چھٹکارا ملتا ہے ، مساجد ضرار کیسے ڈھائی جاتی ہیں ، مستکبر اور مستبد آمروں سے کیسے نجات ملتی ہے ، فقر و فاقہ اور افلاس سے ملک کیسے دور ہوتا ہے ، علم و ٹیکنالوجی میں ترقی کیسے ہوتی ہے ، دشمنوں کے مقابلے میں طاقت کیسے حاصل ہوتی ہے ، منافقوں کی پہچان کیسے ہوتی ہے ، جان پر کھیل کر ملک و ملت بچانے والے کون لوگ ہوتے ہیں ، عوام کو دھوکا دینے والے کون ہوتے ہیں ، مکاروں کے مکر سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور زمانے کی سختیوں کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے ۔ان تمام مقامات ، اقدامات اور اعمال کی کلید بھی قرآن نے ذکر کی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ قوموں کو خود ہی کرنا ہوتا ہے ، کوئی دوسری طاقت کسی قوم کی جگہ آکر کچھ بھی نہیں کر سکتی حتیٰ کہ خالقِ کائنات ، خدائے عزیز و قدیر بھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک خود وہ قوم قیام نہ کرے ، ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ، سکوت کے عالم میں انتظار ِفردا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور وِرد و دعا بھی غیر مؤثر ہوجاتی ہیں ۔ اﷲ کے قانون کے مطابق قوم کا کام خود قوم کو کرنا ہے ، امت کا فریضہ امت کو انجام دینا ہے اور اﷲ کا کام اﷲ کو کرنا ہے۔ جو کام امتوں کے ذمہ ہیں وہ ہرگز خدا نہیں کرتا، اگرچہ اسے رورو کے پکارا جائے ، گڑگڑا کے پکارا جائے اور صبح و شام پکارا جائے ۔ خدا وند تعالیٰ نے امتوں کی ہدایت کے لئے آسمانی کتابیں نازل کی ہیں، انبیاء و رُسل بھیجے ہیں اور ائمہ مقرر کئے ہیں ۔ انہی کتابوں میں الٰہی رسل کے ذریعے اور الٰہی ائمہ کی زبان سے برملا طور پر یہ بتا دیا گیا کہ ملتوں کا کام ملتوںکو کرنا ہے قرآ
3 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 405792
قومیں جب جمود اور سکوت کا شکار ہوجائیں تو ان پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا جاتا ہے ، ایسی قوموں میں ظلم عام ہوجاتا ہے، نا انصافی بڑھ جاتی ہے ، امن و امان کا خاتمہ ہوجاتا ہے ، بھوک و افلاس کا منحوس سایہ چھا جاتا ہے ، یزید جیسے ظالم برسر اقتدار آجاتے ہیں ، بنو امیہ جیسے بیت المال کے لٹیرے قوم پر حاکم ہوجاتے ہیں ، عزت و ناموس لٹ جاتی ہے ، قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں ، ملک غیر محفوظ ہوجاتا ہے ، ملت بے آبرو اور دین غیر محفوظ ہوجاتا ہے ۔