1 اپریل 2013 - 19:30

سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں عوام نے احتجاجی مظاہرے کرکے بزرگ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ نمر باقر النمر کی رہائي کا مطالبہ کیا ہے جن کو سزائے موت دینے کے لیے اس ملک کے اٹارنی جنرل نے گزشتہ ہفتے عدالت سے حکم صادر کرنے کی درخواست کی۔

ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی شہروں میں عوام نے مظاہرے کرکے اپنے بزرگ عالم دین کی رہائي کیا مطالبہ کیا ہے۔ آل سعود کے کارندوں نے بزرگ شیعہ عالم دین شیح نمر باقر النمر کو گذشتہ جولائي میں گرفتار کیا تھا۔ اور گزشتہ ہفتے سعودی عدالت سے اٹارنی جنرل نے ان کے لیے سزائے موت کا حکم صادر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹارنی جنرل کے اس غیر منصفانہ مطالبہ پر سعودی عرب کے شیعہ نشین علاقوں میں مختلف مظاہرے ہوئے ہیں اور مظاہرین نے شیخ النمر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسرے ممالک سے بھی مختلف شخصیات نے اس غیر عادلانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے شیخ النمر کو جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بیانات صادر کئے ہیں۔  اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں شيخ نمر کی گرفتاری کے بعد سے حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور ہرروز ان کی رہائي کے لئے احتجاج ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آل سعود کے کارندوں نے شہر قطیف سے چھے سو افراد کو گرفتار کرکے کالی کوٹھریوں میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں عوامی تحریک جاری ہے اور عوام ملک میں سیاسی، مذہبی اور اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کررہےہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ آل سعود خود کو اسلامی بیداری کی تحریک سے نہیں بچاسکتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242