31 مارچ 2013 - 19:30

امريکا اور روس درميان کشيدگي ميں ايک بار پھر شدت آگئ ہے - امريکا نے روس پر جمہوريت کے فروغ کو روکنے کا الزام لگايا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ امريکا اس کے اندروني معاملات ميں مداخلت کررہا ہے -

ابنا: روس میں غیر سرکاری تنظیموں پر کنٹرول کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ کے بیان پر روس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں پر روسی حکومت کے  کنٹرول کے باوجود واشنگٹن روس میں سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کی مالی امداد جاری رکھے گا۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکاشویچ نے کہا ہے کہ وکٹوریا نولینڈ کایہ بیان روس کی داخلی امور میں کھلی مداخلت اور قابل مذمت ہے۔
روسی پارلیمنٹ ڈوما کے پاس کردہ بل کے مطابق جس پر حکومت نے نومبر دو ہزار بارہ سے عمل درآمد شروع کردیا ہے، وہ غیر سرکاری روسی تنظیمیں جن کا بجٹ بیرون ملک سے فراہم ہوگا، غیر ملکی شمار ہوں گی۔ روس کے اندر دوسرے ملکوں کی مدد سےکام کرنے والی تنظیموں کی بعض سرگرمیاں اس قانون کی زد میں آگئیں اور بہت سی غیر سرکاری تنظیموں پر پابندی لگادی گئی ۔ اس کے ساتھ ہی روسی عدلیہ نے ایک سرکولر جاری کرکے تمام غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر اور مالی ذرائع کی چھان بین بھی شروع کردی ہے۔ 

امریکا روس میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے روس کے اندر اپنا اثر و نفوذ بڑھانا اور ڈیموکریسی کی حمایت کے بہانے حکومت کی بنیادوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔امریکی اس سے پہلے مشرقی یورپ میں روس کا اثر و نفوذ ختم کرنے کے لئے اسی حربے سے کام لے چکے ہیں۔انہوں نےسابق مشرقی بلاک کے ملکوں جارجیا اور یوکرین میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے ہی سیاسی تحریکیں چلائیں اور حکومتیں بدلیں۔

اس تجربے کے پیش نظر روسی حکومت ملک میں سرگرم غیر سرکاری تنظیموں پر نظر رکھنا اور انہیں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے  اور اسی لئے اس نے غیر ملکی سرمائے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو غیر ملکی قرار دے کے ان پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔کرملن نے اسی کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ  روس میں سرگرم بیرونی  غیر سرکاری تنظیموں پر اس لحاظ سے کہ وہ روس کے اندر کام کررہی ہیں، روسی قوانین کا اطلاق ہوگا۔

صدر ولادیمیر پوتین کے مخالفین کا کہنا ہےکہ ان قوانین کا مقصد مخالفین پر دباؤ ڈالنا ہے۔               
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے بھی روسی حکومت کے مخالفین کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس میں غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں قوانین ان کی سرگرمیوں کو محدود کریں گے  اور ڈیموکریسی میں انحراف کا سبب بنیں گے۔ یورپی یونین شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرن اشٹن اور اسی طرح جرمنی اور فرانس کے اعلی حکام نے بھی روس میں غیر سرکاری تنظیموں سے متعلق قوانین کو جمہوریت مخالف قرار دیا ہے ۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکاشویچ نے ان بیانات کو روس کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس کے معاشرے اور سیاست پر اثر انداز ہونے کی مغرب کی کوششیں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گی۔
.....
/169