ابنا: باکو میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفارت خانے نے " آذربائیجان کے قومی محاذ برائے آزادی " سے موسوم علیحدگی پسندوں کے اجلاس کے انعقاد پر تہران نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس اجلاس کے انعقاد کی شدید مذمت کی ہے ۔ جمہوریۂ آذربائیجان میں ایرانی سفارتخانے کے ذرائع ابلاغ کے امور کے ذمہ دار سید محمد آیۃاللہی نے کہا کہ جمہوریۂ آذربائجان کے داخلی امور میں عدم مداخلت اور احترام کے اصول کی پابندی اور باکو کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی تقویت پر مبنی تہران کی پالیسی کے باوجود ، یہ بات قابل افسوس ہے کہ ایران مخالف عناصر باکو میں کسی بھی رکاوٹ کے بغیر بدستور اسلامی جمہوریۂ ایران کے خلاف بےبنیاد ارضی دعوے کر رہے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ بعض علیحدگی پسند عناصر نے " آذربائجان قومی محاذ برائے آزادی " سے موسوم گروہ کی دعوت پر 30 مارچ کو باکو میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا اور اس میں علیحدگی پسندانہ دعوے کرتے ہوئے دشمنانہ اور توہین آمیز تقریریں کیں اور ساتھ ہی ساتھ ایران مخالف پمفلیٹ بھی تقسیم کئے ۔ قابل غور نکتہ اس اجلاس اور اس جیسے دیگر اجلاسوں میں بعض معلوم الحال اور جانے پہچانے افراد کی شرکت ہے ۔ آذربائیجان میں ایران کے سفیر محسن پاک آئین نے حال ہی میں آذری ذرائع ابلاغ کے ساتھ انٹرویو میں قوم پسندانہ اور علیحدگی پسندانہ افکار کی توضیح پیش کی اور اس پر تنقید بھی کی ۔ ان کے بقول جمہوریہ آذر بائیجان میں بعض ایسے عناصر سرگرم عمل ہیں جو ایران کے خلاف نظریات رکھتے ہیں اور ایران کی حکومت اور قوم کے دشمنوں سے یکسوئی رکھتے ہوئے خلیج فارس کے حوالے سے جعلی اصطلاح استعمال کررہے ہیں۔ ان عناصر نے ایران کے خلاف قوم پرستی کو بھی اپنے پروپیگنڈے میں شامل کررکھا ہے۔ جمہوریہ آذر بائیجان میں ایران کے خلاف نظریات رکھنے والے یہ عناصر مختلف اعلی عہدوں پر فائز ہیں جو باکو میں ایسے عناصر کے اجلاس کی حمایت کررہے ہیں جو ایران میں قانونی کاروائی سے بچ کر بیرون ملک فرار ہوئے ہیں۔ باکو میں ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایسے میں ایران مخالف پروپیگنڈہ جاری ہے جبکہ جمہوریہ آذر بائیجان، آرمینیہ کے ساتھہ اختلافات رکھنے کی بناء پر سخت حالات سے دوچار ہے جس کی رو سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ باکو کی حکومت اپنے ملک کے پڑوس میں اپنے دوستوں کو تلاش کرنے کے بجائے اپنے خلاف دشمن بنانے میں سرگرم عمل ہے اور اس ملک کے موجودہ حکام جمہوریہ آذر بائیجان کے قومی مفادات کے خلاف پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ الہام علی اف کی حکومت پر امریکہ و اسرائیل کی مسلط کردہ ترجیحات کی بنیاد پر باکو کے حکمراں ایران سے دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ روس کے خلاف بھی تشہیراتی مہم پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ درحقیقت روس میں ولادیمیر پوتین کے برسر اقتدار آنے کے ساتھہ ہی باکو حکام کی جانب سے اس ملک کے خلاف دیئے جانے والے بیانات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ قرہ باغ کا مسئلہ درکنار اور یا فراموش کردیا جائے جبکہ اسی مسئلے کی بناء پر جمہوریہ آذر بائیجان کے حکام اور عوام کیلئے کافی مسائل پیدا اور اس ملک کے دس لاکھہ سے زائد عام شہری بے گھر ہوئے ہیں ۔ اس کے باوجود اس ملک کی حکومت اس سلسلے میں کسی راہ حل کی تلاش کیلئے نہ صرف یہ کہ کوئی اجلاس تشکیل دیئے جانے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ اس حوالے سے قوم پسند گروہ بھی خاموشی اختیار کئے ہیں جو کسی قسم کا اظہار خیال تک نہیں کررہے ہیں۔......./169
30 مارچ 2013 - 19:30
News ID: 404752
ایران کے ساتھ تعلقات زیادہ سے زیادہ مستحکم اور فروغ دینے کے سلسلے میں حکومت باکو کے حکام کی اعلان شدہ پالیسیوں اور جمہوریۂ آذربائجان کے بعض اقدامات اور روّیوں میں یکسوئی نہیں پائی جاتی ۔