ابنا: جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی نے 28 مارچ کو اپنے دورہ سندھ میں ضلع بدین کا دورہ کرتے ہوئےماتلی پہنچ گئے ۔ ماتلی بائی پاس پر ہزاروں مومنین نے اپنے محبوب قائد کا والہانہ استقبال کیا۔تفصیلات کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی نے ماتلی میں اپنے ہاتھوں سے مسجد حضرت ابوطالب (ع) ، امام بارگاہ دربار حسین (علیہ السلام) اور مدرسہ دارالعلوم الجعفریہ ماتلی کا سنگ بنیاد رکھا ۔اس کے بعد علامہ سید ساجد علی نقوی مومنین کے ایک عظیم قافلے کے ساتھ بدین شہر پہنچ گیے اورشیعہ علماء کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ لبیک یا حسین (علیہ اسلام) کانفرنس میں شرکت کی ۔العباس ہال بدین شہر میں لبیک یا حسین (علیہ السلام ) کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلام آباد میں اپنی شناخت کروائیں ۔ اس کے بعد علامہ سید ساجد علی نقوی نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں ہم بھرپور حصہ لیں گے اور اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔ آپ مومنین اس کیلئے تیار رہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس سے شیعہ علماء کونسل سندھ کے صوبائی صدر علامہ محمد باقر نجفی ، شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی ، علامہ علی ناصر مہدوی (آف کراچی) ، علامہ محسن مہدوی سمیت دیگر مقامی علمائے کرام نے بھی خطاب کیا ۔اس کے بعد قائد ملت جعفریہ نے علماء کرام کے وفد کے ساتھ بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔اس کے بعد علامہ سید ساجد علی نقوی مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے علی آباد گاوں پہنچے جہاں پر مقامی مومنین کے مختلف وفود سے ملاقات کی۔ جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی نے سیری کے مقام کا دورہ بھی کیا جہاں پر مومنین نے علامہ سید ساجد علی نقوی کا پر تباک استقبال کیا۔ اس کے بعد ٹھٹہ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ علامہ سید ساجد علی نقوی 29 مارچ کو ضلع ٹھٹہ کا دورہ کرتے ہوئے ٹھٹہ شہر پہنچ گئے ۔ جہاں پر ٹھٹہ کے غیور مومنین نے بھی اپنے محبوب قائدکا بائی پاس سے لیکر شاہ نجف امام بارگاہ تک شاندار استقبال کیا ۔ ٹھٹہ میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے شیعہ علماء کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ لبیک یا حسین (علیہ اسلام) کے عظیم اجتماع سے خطاب کیا۔اس رپورٹ کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی اپنے دورہ سندھ کو جاری رکھتے ہوئے ۳۰ مارچ کو کراچی پہنچ گئے ۔ جہاں پر علامہ سید ساجد علی نقوی نے فخر نوجوانان تشیع شہید سید دانش عباس زیدی کی مجلس چہلم سے خطاب کیا۔انہوں نے اپنے اس خطاب میں کہا کہ اب نوبت یہاں تک پہنچادی گئی ہے کہ ہمارے جوانوں کو بسوں سے اتارکر شناخت کرکے انہیں بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے ! ہمارے فعال جوانوں کو ان کے اپنے محلوں میں گولیاں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اب بس ہو چکی ہے اب ہم اسلام آباد میں اپنی شناخت کروائیں گے جس کیلئے پوری قوم کو تیار اور آمادہ ہو جانا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملت تشیع عظیم امتحان سے گذر رہی ہے ۔ آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں مگر ابھی مسلح جد و جہد کی اجازت نہیں دوں گا ۔ مسلح جد و جہد مشکلات کا حل نہیں ۔ ہمیں اتحاد ، موثر حکمت عملی اور دانشمندانہ فیصلوں سے اپنی مشکلات حل کرنی ہیں۔ اپنے اہداف سے آگاہی اور اب اس کے تعاقب میں مثبت سمت میں ثابت قدمی کے ساتھ پیشرفت بہت ضروری ہے ۔ ہماری جد و جہد ذاتی اور جماعتی سطح سے بالاتر ہو کے ملت کی بقا اور تحفظ وقار کیلئے ہونی چاہئے ۔ اس کے بعد علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہید دانش کے اوصاف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیور شہید پوری قوم کے نوجوانوں کیلئے نمونہ عمل ہونا چایئے ۔ انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملی و قومی تنظیم کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنا سب کا حق ہے لیکن مین تمام مومنین سے سوال کروں گا تم نے اپنی قومی تنظیم کیلئے کیا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کے حوالے سے کہا کہ جس چیز کو مختلف لوگ سیاست کہتے ہوئے نظر آتے ہیں، اسے میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں، قومی پلیٹ فارم شہید قائد کے اعلان سے لیکر آج تک سیاسی میدان میں حاضر رہا ہے اور اپنے فرائض انجام دے رہا ہے، اس مرتبہ ہم الیکشن میں بھرپور طریقہ سے حصہ لیں گے، جس کیلئے تمام مومنین کو تیار رہنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
30 مارچ 2013 - 19:30
News ID: 404574
علامہ سید ساجد علی نقوی نے 28 مارچ کو سندھ کے مختلف اضلاع کے دورے کا آغاز کیا۔