28 مارچ 2013 - 19:30

اقوام متحدہ نے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد میں حکومت میانمار کو قصور وار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہےکہ حکومت بھی ان فسادات میں شامل رہی ہے۔

ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے والے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر تھامس اوجے کوئين تانا نے چھبیس مارچ کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ثبوت و شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف جاری فسادات میں حکومت بھی ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کی پولیس اور فوج کو انسانی حقوق کی پامالی کا جواب دینا ہوگا۔ میانمار میں کئي مہینوں سے مسلمانوں کے خلاف تشدد جاری ہے جس میں سیکڑوں مسلمان جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں اور لاکھوں گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ بیس مارچ کو ہونے والے فسادات میں چالیس مسلمان جاں بحق ہوئے تھے۔ میانمار کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے کہا ہے کہ حکومت میانمار کو تشدد کا سد باب کرنے کے لئے فوری اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔ حالیہ فسادات میں مسلمانوں کی دسیوں مساجد اور سکیڑوں گھروں میں آگ لگادی گئي تھی۔ بعض لوگ اسے پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی سے تعبیر کررہے ہیں۔........../242