ابنا: کيتھرين اشٹون نے يورپي يونين کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ڈبلين ميں پريس کانفرنس ميں کہا کہ اٹھارہ مارچ کو استنبول ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے ماہرين کے اجلاس ميں صرف قانوني اور تکنيکي پہلوؤں پر بات ہوئي - انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات ميں کسي بھي طرح کا کوئي سياسي معاملہ زير بحث نہيں آيا –کيتھرين اشٹون نے کہا کہ آلماتي ميں ايک بار پھر ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کا اجلاس ہوگا اور ہم سمجھتے ہيں کہ ان مذاکرات ميں ہم تفصيل کے ساتھ اپني تجاويز تہران کو پيش کرسکيں گے اور ساتھ ہي يہ بھي اميد کرتے ہيں کہ ايران بھي ہماري تجاويز کا مثبت جواب دے گا - انہوں نے کہا کہ انہيں جو تجربہ ہوا ہے اس سے يہ ثابت ہوچکا ہے کہ ايران کے ايٹمي معاملے کو سفارتکاري کے ذريعے ہي حل کيا جاسکتا ہے –واضح رہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے بارہا اپنے اس اصولي موقف کا اعادہ کيا ہے کہ معاملے کو بات چيت کے ذريعے ہي حل کيا جانا چاہئے - تہران کا کہنا ہے کہ پابنديوں اور دھمکيوں سے کوئي نتيجہ نہيں نکلنے والا ہے –اسلامي جمہوريہ ايران کا موقف ہے کہ اس کا ايٹمي پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور اين پي ٹي معاہدے کے تحت پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹکنالوجي تک رسائي اس کا مسلمہ حق ہے جس کو مغرب کو تسليم کرنا چاہئے............./169
23 مارچ 2013 - 19:30
News ID: 402666
يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ کيتھرين اشٹون نے کہا ہے کہ وہ آئندہ اپريل ميں قزاقستان کے شہر الماتي ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ ہونےوالے مذاکرات کے تعلق سے پراميد ہيں -