ابنا: ڈون نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اوبامہ کی اسرائیلی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ حقیقی سرحدوں کو مرتب کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اسرائیلی طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ عرب دنیا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔اس دورے کے دوسرے حصے کے دوران انہوں نے فلسطین صدر محمود عباس سے ملاقات کی جنہوں نے صدر کو کہا کہ اسرائیل سے اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک وہ فلسطین کے مستقبل کے حصوں پر آباد کاری بند نہیں کردیتا۔محمود عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ خطے میں دو ریاستیں ہونا ابھی بھی مسئلے کا بہتر حل ہے جبکہ فلسطین کی عوام قبضے کے خاتمے کے مستحق ہیں۔انہوں کہا: “فلیسطینی عوام قبضے اور اسکے ساتھ آنے والی مشکلات کے خاتمے کے مستحق ہیں۔ اگر آسان الفاظ میں کہا جائے تو فلسطینی عوام اپنی الگ ریاست کے مستحق ہیں۔”انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آباد کاری کا جاری رہنا ٹھیک نہیں ہے اور اس سے امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف شہروں میں اوبامہ کیخلاف سخت مظاہرے ہوئے ہیں مظاہرین نے امریکہ کے پرچم اور اوبامہ کی تصویروں کو نذر آتش کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
21 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 401981
امریکہ صدر باراک اوبامہ نے جمعرات کو اسرائیل پر زور دیا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو قبول کرلینا چاہیئے جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہودی بستیاں امن کے لیے غیر مفید ہیں۔