11 مارچ 2013 - 20:30

وينيز ويلا کي حذب اختلاف کے رہنما نے ملک ميں ہونے والے قبل از وقت صدارتي انتخابات ميں شرکت کا اعلان کرديا ہے-

ابنا: آنريکے کاپري لس جو سن دوہزار بارہ ميں ہونے والے صدراتي انتخابات ميں آنجہاني صدر ہوگو شاويز کے مقابلے ميں اليکشن ہار گئے تھے ايک ملک کے عبوري صدر نکولس ميڈورو سے مقابلہ کريں گے-ونيز ويلا کے ہر دلعزيز رہنما اور صدر ہيوگو شاويز پانچ مارچ دوہزار تيرہ کو سرطان جيسے موذي مرض کا دوسال تک مقابلہ کرنے کے بعد انتقال کر گئے تھے-اور دوہزار بارہ ميں مسلسل چوتھي بار بھاري اکثريت سے ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے  جبکہ ان کے مدمقابل اميدوار نيکولس کاپري ليس کو جنہيں ملک کي تيس مختلف جماعتوں کي حمايت حاصل تھي، پينتاليس في صدر ووٹ ملے تھے-انکي بيماري کي شدت ملک کے صدر کي حیثيت سے چوتھي بار حلف اٹھانے ميں حائل ہوگئي جس کے بعد ان کے معاون نيکولس ميڈورو نے قائم مقام صدر کي حیثيت سے ملک  کي قيادت سنبھال لي تھي-اب ملک ميں نئے صدارتي انتخابات کرانے کي ذمہ داري بھي وينيزويلا کے عبوري صدر نيکوليس ميڈورو کے کاندھوں پر ہے اور وہ خود بھي ايک اميدوار کي حیثيت سے انتخابات ميں حصہ لے رہے ہيں-

آنجہاني صدر کي مقبوليت نے انتخابات ميں ميڈورو کي پوزيشن کو مستحکم بناديا ہے اور اسکي سب سے بڑي وجہ يہ ہے کہ ملک کے ہر دلعزيز صدر ہيوگيو شاويز نے بھي اپني موت سے پہلے عوام سے اپيل کي تھي انکے بعد نيکولس ميڈورو کو ووٹ ديکر منتخب کريں -

گزشتہ انتخابات ميں شکست کھانے والے متحدہ اپوزيشن کے پاس موجودہ انتخابات ميں کاميابي کا امکان بہت کم دکھا دے رہا ہے خاص طور پر ملک ميں کرائے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ نيکولس ميڈورو کو عوام کي زيادہ حمايت حاصل ہے-بہرحال افراط زر کي اونچي سطح اور معاشي مشکلات انتخابي کمپين کا اہم موضوع اور ملک کے نئے صدر کے سامنے دو اہم چيلينج بن سکتے ہيں-اگر چہ وينيز ويلا ميں اقتصادي اور سماجي اصلاحات کا ملک کے کمزور اور کم آمدني والے طبقے نے بھرپور خير مقدم کيا ہے ليکن افراط زر کي بيس في صد سے زيادہ کي شرح عوام کو سخت دباؤ ميں مبتلا کر رکھا ہے-حزب اختلاف کے رہنما کاپري ليس ملک کي اقتصادي مشکلات اور افراط زر کي اونچي شرح پر قابو پانے کے لئے برازيلين ماڈل پر عملدرآمد پر تاکيد کر رہے ہيں جبکہ نيکولس ميڈوروں اس مشکل پر قابو پانے کے لئے چيني سرمايہ کاروں کو سرماري پر راغب کرنے کي بات کر رہے ہيں-اب ديکھنا يہ ہے کہ وينيز ويلا کے عوام جو اس سے پہلے چار بار صدر ہيوگو شاويز کو ووٹ ديکر کامياب بناتے رہے ہيں ہيں اپريل ميں ہونے والے اتنخابات ميں بھي اسي راستے پر چليں گے يا کوئي اور راستہ منتخب کرنے کي کوشش کريں گے.

.....

/169